TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 5468 · Book on Drinks

Sunan An-Nasa'iHadith 5468

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ عَنْ وِقَائِ بْنِ إِيَاسٍ عَنْ الْمُخْتَارِ بْنِ فُلْفُلٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ نَهَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَجْمَعَ شَيْئَيْنِ نَبِيذًا يَبْغِي أَحَدُهُمَا عَلَی صَاحِبِهِ قَالَ وَسَأَلْتُهُ عَنْ الْفَضِيخِ فَنَهَانِي عَنْهُ قَالَ کَانَ يَکْرَهُ الْمُذَنِّبَ مِنْ الْبُسْرِ مَخَافَةَ أَنْ يَکُونَا شَيْئَيْنِ فَکُنَّا نَقْطَعُهُ

سوید بن نصر، عبد اللہ، وقاء بن ایاس، مختار بن فلفل، انس بن مالک سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ممانعت فرمائی دو اشیاء کو ملا کر بھگونے سے کیونکہ ایک دوسری پر قوت بڑھانے اور میں نے دریافت کیا فضیخ (شراب سے متعلق) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے منع فرمایا اس سے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم برا سمجھتے تھے اس گدری کھجور کو جو کہ ایک جانب سے فروخت ہونا شروع ہوگئی اس اندیشہ سے کہ وہ دو کھجور ہیں ہم ایسی کھجور کو اگر بھگوتے تو اس جانب سے کاٹ دیتے جو کہ پک جاتی۔

It was narrated that Anas would not leave any dates that had become ripe but he would remove them from his FadIkh. (Hasan)

Permalink

See the full chapter: دو چیزیں ملا کر بھگونے کی ممانعت کی وجہ یہ ہے کہ ایک شے سے دوسری شے کو تقویت حاصل ہوتی ہے اور اس طرح نشہ جلدی پیدا ہونے کا امکان ہے۔