Sunan An-Nasa'i — Hadith 4872
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ قَالَ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ عَنْ ابْنِ عَجْلَانَ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ الثَّمَرِ الْمُعَلَّقِ فَقَالَ مَا أَصَابَ مِنْ ذِي حَاجَةٍ غَيْرَ مُتَّخِذٍ خُبْنَةً فَلَا شَيْئَ عَلَيْهِ وَمَنْ خَرَجَ بِشَيْئٍ مِنْهُ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ وَمَنْ سَرَقَ شَيْئًا مِنْهُ بَعْدَ أَنْ يُؤْوِيَهُ الْجَرِينُ فَبَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ فَعَلَيْهِ الْقَطْعُ وَمَنْ سَرَقَ دُونَ ذَلِکَ فَعَلَيْهِ غَرَامَةُ مِثْلَيْهِ وَالْعُقُوبَةُ
قتیبہ، لیث، ابن عجلان، عمرو بن شعیب، حضرت عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے دریافت کیا گیا درخت پر لٹکا ہوا پھل چوری کرنا کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو شخص ضرورت رکھتا ہو مثلا بہت بھوکا ہو اور کچھ اس کو کھانے پینے کو ملے تو وہ ایسا پھل لے لے بشرطیکہ اس کو چھپا کر اپنے کپڑے میں نہ باندھے تو اس پر کسی قسم کی کوئی گرفت نہیں اور جو شخص اس قسم کا پھل لے کر نکل آئے تو وہ اس کا دوگنا ضمان دے دے اور اس کی سزا الگ ملے گی اور جو کوئی پھل ٹوٹنے کے بعد اس کی چوری کرے اور اس کی قیمت ڈھال کے برابر ہو تو اس کا ہاتھ کاٹا جائے اور اگر ڈھال کی مالیت سے کم چوری کرے تو دو گنا ضمان ادا کرے اور اس کو سزا الگ ہوگی۔
It was narrated that Rafi’ bin Khadij said: “I heard the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم say: ‘The hand is not to be cut off for (stealing) produce or the spadix of palm trees.” (Sahih)