Sunan An-Nasa'i — Hadith 4157
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ عَنْ شُعْبَةَ عَنْ خَالِدٍ عَنْ أَبِي قِلَابَةَ عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ وَأَحْسَبُنِي قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ نُبَيْشَةَ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنِّي کُنْتُ نَهَيْتُکُمْ عَنْ لُحُومِ الْأَضَاحِيِّ فَوْقَ ثَلَاثٍ کَيْمَا تَسَعَکُمْ فَقَدْ جَائَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِالْخَيْرِ فَکُلُوا وَتَصَدَّقُوا وَادَّخِرُوا وَإِنَّ هَذِهِ الْأَيَّامَ أَيَّامُ أَکْلٍ وَشُرْبٍ وَذِکْرِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَالَ رَجُلٌ إِنَّا کُنَّا نَعْتِرُ عَتِيرَةً فِي الْجَاهِلِيَّةِ فِي رَجَبٍ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ اذْبَحُوا لِلَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فِي أَيِّ شَهْرٍ مَا کَانَ وَبَرُّوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَأَطْعِمُوا فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا کُنَّا نُفْرِعُ فَرَعًا فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَمَا تَأْمُرُنَا قَالَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي کُلِّ سَائِمَةٍ مِنْ الْغَنَمِ فَرَعٌ تَغْذُوهُ غَنَمُکَ حَتَّی إِذَا اسْتَحْمَلَ ذَبَحْتَهُ وَتَصَدَّقْتَ بِلَحْمِهِ عَلَی ابْنِ السَّبِيلِ فَإِنَّ ذَلِکَ هُوَ خَيْرٌ
عبداللہ بن محمد بن عبدالرحمن، غندر، شعبہ، خالد، ابوقلابة، ابوملیح، نبیشة سے روایت ہے کہ ایک شخص قبیلہ ہذیل کا فرد تھا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ میں نے تم کو منع کیا تھا قربانی کا گوشت تین دن سے زیادہ رکھنے سے تاکہ تم لوگوں کو وہ گوشت کافی ہو جائے یعنی اس وقت لوگ محتاج تھے تو میں نے منع کر دیا تھا کہ قربانی کا گوشت تین روز سے زیادہ نہ جمع کرو۔ بلکہ اس کو کھالو یا صدقہ کر دو تاکہ تمام محتاجوں کو مل جائے اور کوئی شخص بھوکا نہ رہ جائے۔ لیکن تم لوگوں کو خداوند قدوس نے دولت مند بنا دیا تو تم لوگ کھاؤ اور خیرات دو اور اس کو رکھ لو اور چھوڑو اور یہ دن ا ذی الحجہ ہیں کھانے اور پینے کے اور یاد الہی میں مشغول رہنے کے۔ یہ بات سن کر ایک شخص نے عرض کیا ہم لوگ تو ماہ رجب میں دور جاہلیت میں عتیرہ کرتے تھے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم لوگ ذبح کرو خداوند قدوس کے واسطے اور جس ماہ تمہارا دل چاہے اور تم نیک کام کرو رضا الہی کے لیے اور کھانا کھلاؤ مساکین کو۔ اس پر ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم لوگ دور جاہلیت میں فرع کرتے تھے۔ اب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا حکم فرماتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا بکریوں میں فرع ہے لیکن کھلانے دے اس کی والدہ کو جس وقت وہ تیار ہو جائے تو کاٹ دو اور تم صدقہ دو گوشت کا مسافروں کو یہ بہتر ہے۔
It was narrated that Nubaishah Al-HudhailI said: “A man said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, we used to sacrifice the ‘Atirah during the Jahiliyyah in Rajab; what do you command us to do?’ He said: ‘Sacrifice to Allah, the Mighty and Sublime, whatever month it is, do good for the sake of Allah, the Mighty and Sublime, and feed (the poor).” (Sahih)