Sunan An-Nasa'i — Hadith 4153
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ شُعَيْبِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِيهِ وَزَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ الْفَرَعَ قَالَ حَقٌّ فَإِنْ تَرَکْتَهُ حَتَّی يَکُونَ بَکْرًا فَتَحْمِلَ عَلَيْهِ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ تُعْطِيَهُ أَرْمَلَةً خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذْبَحَهُ فَيَلْصَقَ لَحْمُهُ بِوَبَرِهِ فَتُکْفِئَ إِنَائَکَ وَتُولِهُ نَاقَتَکَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالْعَتِيرَةُ قَالَ الْعَتِيرَةُ حَقٌّ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ أَبُو عَلِيٍّ الْحَنَفِيُّ هُمْ أَرْبَعَةُ إِخْوَةٍ أَحَدُهُمْ أَبُو بَکْرٍ وَبِشْرٌ وَشَرِيکٌ وَآخَرُ
ابراہیم بن یعقوب بن اسحاق ، عبیداللہ بن عبدالمجید ابوعلی حنفی، داؤد بن قیس، عمرو بن شعیب بن محمد بن عبداللہ بن عمرو، وہ اپنے والد سے، وہ اپنے والد سے و زید بن اسلم سے روایت ہے کہ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! فرع کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا حق ہے (یعنی اگر اللہ تعالیٰ کی رضامندی کے واسطے کیا جائے نہ کہ بتوں کی رضامندی کے لیے جیسا کہ مشرکین کرتے تھے) پھر اگر تم (یا کوئی شخص) فرع کے جانور کو چھوڑ دو یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائے اور تم راہ خدا میں اس کو دے دو (یعنی راہ خدا میں لگا دو) یا کسی غریب مسکین بیوہ کو دے دو تو بہتر ہے اس کے کاٹنے سے۔ ماں کے جسم کا گوشت پوست لگ جائے گا (یعنی غم کی وجہ سے اس کی ماں سوکھ جائے گی) پھر تم دودھ کے برتن کو الٹ کر رکھ دو گے (یعنی غم کی وجہ سے اس کی ماں کا دودھ خشک ہو جائے گا اور وہ دودھ دینا بند کر دے گی اور (صدمہ کی وجہ سے) وہ ماں پاگل ہو جائے گی۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ! پھر عتیرہ کیا چیز ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا وہ بھی حق ہے۔
Yahyah bin Zurarah As Sahmi said: “My father narrated to me from his grandfather, Al-Harith bin ‘Amr that he met the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم during the Farewell Pilgrimage and said: ‘May my father and mother be sacrificed for you! Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم; pray for forgiveness for me.’ He said: ‘May Allah forgive you (plural).’ He was atop his slit-eared camel and I came around to the other side” and he quoted the Hadith. (Hasan)