Sunan An-Nasa'i — Hadith 3953
أَخْبَرَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَی قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سَعِيدٍ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو أُمَامَةَ بْنُ سَهْلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ قَالَا کُنَّا مَعَ عُثْمَانَ وَهُوَ مَحْصُورٌ وَکُنَّا إِذَا دَخَلْنَا مَدْخَلًا نَسْمَعُ کَلَامَ مَنْ بِالْبَلَاطِ فَدَخَلَ عُثْمَانُ يَوْمًا ثُمَّ خَرَجَ فَقَالَ إِنَّهُمْ لَيَتَوَاعَدُونِّي بِالْقَتْلِ قُلْنَا يَکْفِيکَهُمُ اللَّهُ قَالَ فَلِمَ يَقْتُلُونِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ دَمُ امْرِئٍ مُسْلِمٍ إِلَّا بِإِحْدَی ثَلَاثٍ رَجُلٌ کَفَرَ بَعْدَ إِسْلَامِهِ أَوْ زَنَی بَعْدَ إِحْصَانِهِ أَوْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ فَوَاللَّهِ مَا زَنَيْتُ فِي جَاهِلِيَّةٍ وَلَا إِسْلَامٍ وَلَا تَمَنَّيْتُ أَنَّ لِي بِدِينِي بَدَلًا مُنْذُ هَدَانِيَ اللَّهُ وَلَا قَتَلْتُ نَفْسًا فَلِمَ يَقْتُلُونَنِي
ابراہیم بن یعقوب، محمد بن عیسی، حماد بن زید، یحیی بن سعید، ابوامامة بن سہل و عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت ہے کہ ہم لوگ حضرت عثمان کے ساتھ تھے جس وقت وہ کھڑے ہوئے تھے (یعنی جب ان کو غداروں اور باغیوں نے چاروں طرف سے گھیرے میں لے رکھا تھا) اور جس وقت ہم لوگ کسی جگہ سے اندر کی جانب گھستے تو ہم لوگ بلاط کے لوگوں کی باتیں سنتے۔ ایک دن حضرت عثمان غنی اندر داخل ہوئے پھر باہر نکلے اور فرمایا جو لوگ مجھ کو قتل کرنے کے واسطے کہتے ہیں ہم نے کہا ان کے لیے خداوند قدوس کافی ہے یعنی ان کو سزا دینے کے واسطے) حضرت عثمان نے پوچھا کس وجہ سے وہ لوگ مجھ کو قتل کرنے کے درپے ہیں؟ (پھر فرمایا کہ) میں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرماتے تھے مسلمان کا خون کرنا درست نہیں لیکن تین وجہ سے ایک تو جو شخص ایمان لانے کے بعد پھر کافر ہو جائے یا احصان کے بعد زنا کا مرتکب ہو یا کسی کی (ناحق) جان لے تو خداوند قدوس کی قسم کہ میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں زنا کیا اور نہ ہی اسلام لانے کے بعد اور نہ میں نے تمنا کی کہ میں دین کو تبدیل کروں جس وقت سے خداوند قدوس نے مجھ کو ہدایت فرمائی پھر وہ لوگ مجھ کو کس وجہ سے قتل کرنا چاہتے ہیں؟
It was narrated that ‘Arfajah bin Shuraih said: “The Prophet صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘After me there will be many calamities and much evil behavior.’ He raised his hands (and said): Whomever you see trying to create division among the Ummah of Muhammad صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم when they are all united, kill him, no matter who he is among the people.” (Sahih)