TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 3120 · Hadiths Related to Jihad

Sunan An-Nasa'iHadith 3120

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْکِينٍ قِرَائَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ عَنْ ابْنِ الْقَاسِمِ قَالَ حَدَّثَنِي مَالِکٌ عَنْ إِسْحَقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا ذَهَبَ إِلَی قُبَائَ يَدْخُلُ عَلَی أُمِّ حَرَامٍ بِنْتِ مِلْحَانَ فَتُطْعِمُهُ وَکَانَتْ أُمُّ حَرَامٍ بِنْتُ مِلْحَانَ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ فَدَخَلَ عَلَيْهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَأَطْعَمَتْهُ وَجَلَسَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَکُ قَالَتْ فَقُلْتُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَرْکَبُونَ ثَبَجَ هَذَا الْبَحْرِ مُلُوکٌ عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلُ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ شَکَّ إِسْحَقُ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ فَدَعَا لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَامَ وَقَالَ الْحَارِثُ فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ فَضَحِکَ فَقُلْتُ لَهُ مَا يُضْحِکُکَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي عُرِضُوا عَلَيَّ غُزَاةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ مُلُوکٌ عَلَی الْأَسِرَّةِ أَوْ مِثْلُ الْمُلُوکِ عَلَی الْأَسِرَّةِ کَمَا قَالَ فِي الْأَوَّلِ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ قَالَ أَنْتِ مِنْ الْأَوَّلِينَ فَرَکِبَتْ الْبَحْرَ فِي زَمَانِ مُعَاوِيَةَ فَصُرِعَتْ عَنْ دَابَّتِهَا حِينَ خَرَجَتْ مِنْ الْبَحْرِ فَهَلَکَتْ

محمد بن سلمہ، حارث بن مسکین، ابن قاسم، مالک، اسحاق بن عبد اللہ، قاسم، مالک، اسحاق بن عبداللہ بن ابوطلحہ، حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جس وقت حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم (مقام) قباء کی جانب تشریف لے جاتے تو ایک روز آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ام حرام کے یہاں تشریف لائے وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانا کھلا رہی تھی اور ام حرام ملحان کی لڑکی تھی جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں۔ اتفاق سے ایک دن ان کے گھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو حضرت ام حرام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کھانا کھلایا اور وہ بیٹھ کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر مبارک سے جوئیں تلاش کرنے لگ گئیں پھر حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنستے ہوئے اٹھے۔ وہ خاتون یہ فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا چیز دیکھ کر ہنس رہے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا مجھ کو خداوند قدوس نے میری امت کے لوگ جہاد کرتے ہوئے دکھلائے اور وہ لوگ اس دریا کی بلندی پر چڑھتے ہیں یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس طریقہ سے ارشاد فرمایا کہ وہ لوگ بادشاہوں کی طرح سے تختوں پر بیٹھے ہوئے ہیں۔ راوی کو اس میں شک ہوگیا یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے الفاظ مثل فرمایا تھا۔ یا اس کے بغیر فرمایا تھا۔ ملحان کی لڑکی نقل کرتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خداوند قدوس سے دعا مانگیں کہ خداوند قدوس مجھ کو بھی ان میں سے بنا دے (یعنی ان خوش نصیب لوگوں میں شامل کر دے) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے واسطے دعا فرمائی پھر سو گئے اور حارث کی روایت میں ہے کہ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سو گئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نیند سے بیدار ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنس پڑے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ رضی اللہ عنہ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کس بات پر ہنس رہے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پھر وہی جواب ارشاد فرمایا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے لیے دعا فرمائیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تم پہلے لوگوں میں سے ہو چنانچہ حضرت معاویہ کے زمانہ میں سمندر میں سوار ہوئیں اور سمندر سے نکلتے وقت سواری سے گر کر وفات پا گئیں۔

It was narrated from Anas bin Malik that Umm Haram bint Milhan said: “The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم came to us and took a nap in our house, then he woke up smiling. I said: ‘Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, may my father and mother be ransomed for you, what has made you smile?’ He said: ‘I saw some people of my Ummah riding on the sea like kings on thrones.’ I said: ‘Pray to Allah to make me one of them.’ He said: ‘You will be one of them.’ Then he slept again, and woke up smiling. I asked him and he said the same thing. I said: ‘Pray to Allah to make me one of them.’ He said: ‘You will be one of the first.’ Then ‘Ubadah bin As Samit married her, and he traveled by sea, and she traveled with him, but when she came ashore a mule was brought to her and she mounted it, and it threw her off and broke her neck.” (Sahih)

Permalink

See the full chapter: سمندر میں جہاد کی فضیلت