TrueHadith

Sunan An-Nasa'i, Hadith 2350 · Hadiths Related to Fasting

Sunan An-Nasa'iHadith 2350

أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ دُرُسْتَ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْمَعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ أَبِي کَثِيرٍ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ قَالَ دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حُجْرَتِي فَقَالَ أَلَمْ أُخْبَرْ أَنَّکَ تَقُومُ اللَّيْلَ وَتَصُومُ النَّهَارَ قَالَ بَلَی قَالَ فَلَا تَفْعَلَنَّ نَمْ وَقُمْ وَصُمْ وَأَفْطِرْ فَإِنَّ لِعَيْنِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِجَسَدِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِزَوْجَتِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِضَيْفِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّ لِصَدِيقِکَ عَلَيْکَ حَقًّا وَإِنَّهُ عَسَی أَنْ يَطُولَ بِکَ عُمُرٌ وَإِنَّهُ حَسْبُکَ أَنْ تَصُومَ مِنْ کُلِّ شَهْرٍ ثَلَاثًا فَذَلِکَ صِيَامُ الدَّهْرِ کُلِّهِ وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا قُلْتُ إِنِّي أَجِدُ قُوَّةً فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ قَالَ صُمْ مِنْ کُلِّ جُمُعَةٍ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ قُلْتُ إِنِّي أُطِيقُ أَکْثَرَ مِنْ ذَلِکَ فَشَدَّدْتُ فَشُدِّدَ عَلَيَّ قَالَ صُمْ صَوْمَ نَبِيِّ اللَّهِ دَاوُدَ عَلَيْهِ السَّلَام قُلْتُ وَمَا کَانَ صَوْمُ دَاوُدَ قَالَ نِصْفُ الدَّهْرِ

یحیی بن درست، ابواسماعیل، یحیی بن ابوکثیر، ابوسلمة، عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے کمرہ میں تشریف لائے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مجھ کو یہ خبر ملی ہے کہ تم تمام رات عبادت میں مشغول رہتے ہو اور تم دن میں روزہ دار رہتے ہو۔ اس پر میں نے عرض کیا کہ جی ہاں سچ ہے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس طریقہ سے نہ کرو لیکن تم عبادت میں مشغول رہو اور تم روزہ رکھو اور افطار کرو کیونکہ تمہارے ذمہ تمہاری آنکھوں کا بھی حق ہے (وہ آرام کرنا چاہتی ہیں) اور تمہارے ذمہ تہماری اہلیہ کا بھی حق ہے اور تمہارے پاس آنے والے مہمان کا بھی تمہارے ذمہ حق ہے اور ہو سکتا ہے کہ تمہاری لمبی عمر ہو (چنانچہ واقع اسی طرح سے پیش آیا کہ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بہت زیادہ ضعیف العمر ہو کر وفات ہوئے) اور تمہارے واسطے ہر ماہ میں تین روزہ رکھنا کافی ہیں (جب کہ زندگی زیادہ ہوجائے تو اسی قدر روزے کافی ثابت ہوں گے) اور یا ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہیں (مطلب یہ ہے کہ اس قدر اجر و ثواب ہے) کیونکہ ہر ایک نیک عمل کا اجر دس گنا ہوتا ہے میں نے عرض کیا کہ مجھ میں اس سے زیادہ کی قوت ہے۔ اور میں نے اپنے ذمہ سختی کر لی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی شدت اور سختی فرمائی اور ارشاد فرمایا ہر ایک ماہ میں تم تین روزے رکھو اس پر میں نے عرض کیا مجھ میں اس سے زیادہ کی قوت ہے اور میں نے اپنے ذمہ شدت اور سختی کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی شدت کی اور فرمایا کہ حضرت داد علیہ السلام کا تم روزہ رکھا کرو۔ میں نے عرض کیا وہ روزہ کیسا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا آدھا زمانہ (یعنی ایک روز روزہ اور ایک روز افطار)۔

It was narrated that ‘Abdullah said: “The Messenger of ….- entered my apartment said: ‘I have been told that you all night (in prayer) and fast fl day.’ I said: ‘Yes (I do).’ He dd: ‘Do not do that. Sleep and nd (in prayer); fast and break !our fast. For your eyes have a - t over you, your body has a t over you, your wife has a right ver you, your guest has a right ver you, and your friend has a over you. I hope that you will nave a long life and that it will be ufficient for you to fast three days f each month. That is fasting for a fetime, because a good deed is to ten like it.’ I said: ‘I feel e to do more.’ I was strict, so I s dealt with strictly. He said: ast three days each week.’ I said: am able to do more than that.’ I was strict, so I was dealt with strictly. He said: ‘Observe the fast of the Prophet of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم, Dawud, peace be upon him.’ I said: ‘What was the fast of DawudT He said: ‘Half of a lifetime.” (Sahih).

Permalink

See the full chapter: ایک دن روزہ رکھنا اور ایک دن افطار کرنا کیسا ہے؟