Sunan An-Nasa'i — Hadith 1820
أَخْبَرَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو الْأَحْوَصِ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ عِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا حُضِرَتْ بِنْتٌ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَغِيرَةٌ فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَمَّهَا إِلَی صَدْرِهِ ثُمَّ وَضَعَ يَدَهُ عَلَيْهَا فَقَضَتْ وَهِيَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَکَتْ أُمُّ أَيْمَنَ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أُمَّ أَيْمَنَ أَتَبْکِينَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَکِ فَقَالَتْ مَا لِي لَا أَبْکِي وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَبْکِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنِّي لَسْتُ أَبْکِي وَلَکِنَّهَا رَحْمَةٌ ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمُؤْمِنُ بِخَيْرٍ عَلَی کُلِّ حَالٍ تُنْزَعُ نَفْسُهُ مِنْ بَيْنِ جَنْبَيْهِ وَهُوَ يَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ
ہناد بن سری، ابواحوص، عطاء بن سائب، عکرمة، عبداللہ ابن عباس سے روایت ہے کہ حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک چھوٹی لڑکی کی وفات کا وقت آگیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو اٹھا کر اپنے سینہ مبارک سے لگا لیا پھر اپنے دونوں ہاتھ اس پر رکھ دیئے اس لڑکی کی وفات آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ہوگئی اس پر حضرت ام ایمن رونے لگ گئیں حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اے ام ایمن تم کس وجہ سے رو رہی ہو جب کہ میں موجود ہوں۔ انہوں نے کہا میں کس وجہ سے نہ رؤں؟ جب کہ اللہ تعالیٰ کے رسول روتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میں نہیں روتا لیکن یہ رحمت خداوندی ہے یعنی آہستہ سے رونا اور صرف آنسو نکلنا بندہ پر خداوند قدوس کا رحم ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہر ایک حالت میں مسلمان کی بہتری ہے اور مسلمان کی روح پسلیوں سے نکلتی ہے لیکن وہ خدا تعالیٰ کا شکر بجا لاتا ہے۔
It was narrated from Jabir that his father was killed on the day of Uhud. He said: “I started to uncover his face, weeping. The people told me not to do that but the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم did not forbid me. My paternal aunt started to weep, and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: ‘Do not weep, for angels kept on shading him with their wings until you lifted him up.” (Sahih)