Sunan An-Nasa'i — Hadith 1380
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَکَمِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ عَنْ کَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ دَخَلَ الْمَسْجِدَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ابْنُ أُمِّ الْحَکَمِ يَخْطُبُ قَاعِدًا فَقَالَ انْظُرُوا إِلَی هَذَا يَخْطُبُ قَاعِدًا وَقَدْ قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انْفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَکُوکَ قَائِمًا
احمد بن عبداللہ بن حکم، محمد بن جعفر، شعبہ، منصور، عمروبن مرة، ابوعبیدة، کعب بن عجزة سے روایت ہے کہ وہ مسجد میں داخل ہوئے اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن بن حکم کو دیکھا کہ وہ بیٹھے بیٹھے خطبہ پڑھ رہے تھے انہوں نے فرمایا ان کو دیکھو اور مسلم شریف کی ایک روایت میں ہے کہ دیکھو اس خبیث شخص کو کہ وہ بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے حالانکہ خداوند قدوس نے فرمایا ہے کہ لوگ جس وقت تجارت دیکھتے ہیں یا کھیل دیکھتے ہیں تو وہ دوڑ جاتے ہیں اس جانب اور تم کو کھڑا چھوڑ دیتے ہیں پس معلوم ہوا کہ خطبہ کھڑے ہو کر دینا چاہیے۔
It was narrated from Abu Az-Zahiriyah about ‘Abdullah bin Busr, he said: “I was sitting beside him on Friday and he said: ‘A man came, stepping over the people’s necks, and the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم said: Sit down, you are disturbing people.” (Sahih).