Sunan An-Nasa'i — Hadith 1288
أَخْبَرَنَا يَحْيَی بْنُ حَبِيبِ بْنِ عَرَبيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَطَائُ بْنُ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ قَالَ صَلَّی بِنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ صَلَاةً فَأَوْجَزَ فِيهَا فَقَالَ لَهُ بَعْضُ الْقَوْمِ لَقَدْ خَفَّفْتَ أَوْ أَوْجَزْتَ الصَّلَاةَ فَقَالَ أَمَّا عَلَی ذَلِکَ فَقَدْ دَعَوْتُ فِيهَا بِدَعَوَاتٍ سَمِعْتُهُنَّ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا قَامَ تَبِعَهُ رَجُلٌ مِنْ الْقَوْمِ هُوَ أُبَيٌّ غَيْرَ أَنَّهُ کَنَی عَنْ نَفْسِهِ فَسَأَلَهُ عَنْ الدُّعَائِ ثُمَّ جَائَ فَأَخْبَرَ بِهِ الْقَوْمَ اللَّهُمَّ بِعِلْمِکَ الْغَيْبَ وَقُدْرَتِکَ عَلَی الْخَلْقِ أَحْيِنِي مَا عَلِمْتَ الْحَيَاةَ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا عَلِمْتَ الْوَفَاةَ خَيْرًا لِي اللَّهُمَّ وَأَسْأَلُکَ خَشْيَتَکَ فِي الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ وَأَسْأَلُکَ کَلِمَةَ الْحَقِّ فِي الرِّضَا وَالْغَضَبِ وَأَسْأَلُکَ الْقَصْدَ فِي الْفَقْرِ وَالْغِنَی وَأَسْأَلُکَ نَعِيمًا لَا يَنْفَدُ وَأَسْأَلُکَ قُرَّةَ عَيْنٍ لَا تَنْقَطِعُ وَأَسْأَلُکَ الرِّضَائَ بَعْدَ الْقَضَائِ وَأَسْأَلُکَ بَرْدَ الْعَيْشِ بَعْدَ الْمَوْتِ وَأَسْأَلُکَ لَذَّةَ النَّظَرِ إِلَی وَجْهِکَ وَالشَّوْقَ إِلَی لِقَائِکَ فِي غَيْرِ ضَرَّائَ مُضِرَّةٍ وَلَا فِتْنَةٍ مُضِلَّةٍ اللَّهُمَّ زَيِّنَّا بِزِينَةِ الْإِيمَانِ وَاجْعَلْنَا هُدَاةً مُهْتَدِينَ
یحیی بن حبیب بن عربی، حماد، عطاء بن سائب، نے اپنے والد سے روایت کی حضرت عمار نے نماز پڑھائی تو مختصر نماز پڑھائی بعض نے کہا کہ تم نے نماز ہلکی یا مختصر پڑھی انہوں نے کہا کہ باوجود اس کے کہ میں نے اس میں کئی دعائیں پڑھیں جن کو حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا ہے جس وقت وہ کھڑے ہوئے تو ایک شخص ان کے پیچھے گئے حضرت عطاء نے بیان کیا کہ وہ میرے والد تھے لیکن انہوں نے اپنا نام پوشیدہ رکھا اور وہ دعا ان سے دریافت کی پھر واپس آئے اور لوگوں کو بتلائی وہ دعا یہ تھی یعنی اے اللہ! میں تجھ سے دعا کرتا ہوں تیرے غیب اور قدرت کے وسیلہ سے جو تجھ کو مخلوقات پر ہے تو مجھ کو زندہ رکھ جس وقت تک میرے واسطے زندگی قائم رکھنا تیرے نزدیک بہتر ہو اور مجھ کو مار ڈال کہ جس وقت میرے واسطے مر جانا بہتر ہو اے خدا میں ظاہری اور پوشیدہ تیرا خوف مانگتا ہوں اور میں مانگتا ہوں تجھ سے حکمت بھری سچی بات خوشی اور غصہ میں اور میں مانگتا ہوں تجھ سے درمیان کا درجہ محتاجی اور مالداری میں اور میں تجھ سے اس نعمت کو مانگتا ہوں جو کہ تمام نہ ہو اور اس کی آنکھ کی ٹھنڈک کو کہ جو ختم نہ ہو اور میں تجھ سے رضامندی تیرے فیصلہ پر اور میں تجھ سے مانگتا ہوں راحت اور مرنے کے بعد آرام۔ اور میں مانگتا ہوں تجھ سے تیرے چہرہ کے دیکھنے کی لذت کو اور تجھ سے ملاقات کا شوق اور میں مانگتا ہوں تیری اس مصیبت پر کہ جس پر صبر نے ہوسکے اور جو فساد سے گمراہ کرا دے اے خدا ہم کو ایمان کی دولت سے مالا مال فرما دے اور ہم کو ہدایت یافتہ لوگوں کا راستہ دکھلا دے۔
It was narrated that Farwah bin Nawfal said: “I said to ‘Aishah: ‘Tell me of a supplication that the Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم used to say in his prayer.’ She said: ‘Yes. The Messenger of Allah صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم used to say: (Allah, I seek refuge with You from the evil of that which I have done and the evil of that which I have not done).” (Sahih).