TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 97 · Explanation of Purification

Sunan Abu DawoodHadith 97

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ الْإِسْکَنْدَرَانِيُّ حَدَّثَنَا زِيَادُ بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ زِيَادٍ الْمُؤَذِّنُ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ التَّيْمِيِّ قَالَ سُئِلَ ابْنُ أَبِي مُلَيْکَةَ عَنْ الْوُضُوئِ فَقَالَ رَأَيْتُ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ سُئِلَ عَنْ الْوُضُوئِ فَدَعَا بِمَائٍ فَأُتِيَ بِمِيضَأَةٍ فَأَصْغَاهَا عَلَی يَدِهِ الْيُمْنَی ثُمَّ أَدْخَلَهَا فِي الْمَائِ فَتَمَضْمَضَ ثَلَاثًا وَاسْتَنْثَرَ ثَلَاثًا وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلَاثًا ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَی ثَلَاثًا وَغَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَی ثَلَاثًا ثُمَّ أَدْخَلَ يَدَهُ فَأَخَذَ مَائً فَمَسَحَ بِرَأْسِهِ وَأُذُنَيْهِ فَغَسَلَ بُطُونَهُمَا وَظُهُورَهُمَا مَرَّةً وَاحِدَةً ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَيْهِ ثُمَّ قَالَ أَيْنَ السَّائِلُونَ عَنْ الْوُضُوئِ هَکَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَوَضَّأُ قَالَ أَبُو دَاوُد أَحَادِيثُ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ الصِّحَاحُ کُلُّهَا تَدُلُّ عَلَی مَسْحِ الرَّأْسِ أَنَّهُ مَرَّةً فَإِنَّهُمْ ذَکَرُوا الْوُضُوئَ ثَلَاثًا وَقَالُوا فِيهَا وَمَسَحَ رَأْسَهُ وَلَمْ يَذْکُرُوا عَدَدًا کَمَا ذَکَرُوا فِي غَيْرِهِ

محمد بن داؤد، زیاد بن یونس، سعید بن موذن حضرت عثمان بن عبدالرحمن تیمی سے روایت ہے کہ ابن ابی ملیکہ سے وضو کے متعلق دریافت کیا گیا تو انھوں نے کہا کہ میں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو دیکھا کسی نے ان سے طریقہ وضو کے متعلق دریافت کیا تو انھوں نے پانی منگوایا تب ایک لوٹا لایا گیا انھوں نے اس لوٹے کو اپنے داہنے ہاتھ پر جھکایا (یعنی دایاں ہاتھ دھویا) پھر داہنے ہاتھ کو برتن میں ڈال کر پانی لیا تین مرتبہ کلی کی اور تین مرتبہ داہنایاں ہاتھ دھویا پھر بایاں ہاتھ تین مرتبہ دھویا پھر (حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے) برتن میں ہاتھ ڈال کر پانی لیا اور اپنے سر اور کانوں کا اندرونی و بیرونی حصہ پر ایک مرتبہ مسح کیا پھر دونوں پاؤں دھوئے اس کے بعد دریافت فرمایا کہ وضو کے متعلق پوچھنے والے کہاں ہیں؟ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسی طرح وضو کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ وضو کے سلسلہ میں جو احادیث صحیحہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں وہ سب کی سب اس پر دلالت کرتی ہیں کہ سر کا مسح ایک مرتبہ ہے کیونکہ تمام راویوں نے اعضاء وضو کا تین مرتبہ دھونا ذکر کیا ہے مگر سر کے مسح کے بارے میں صرف اتنا کہا ہے کہ سر کا مسح کیا یعنی سر کے مسح میں کوئی عدد ذکر نہیں کیا جیسا کہ دیگر ارکان میں کیا ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وضو کی کیفیت کا بیان