TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 967 · Discussion on Salah

Sunan Abu DawoodHadith 967

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ قَالَ سَأَلَ رَجُلٌ ابْنَ عَبَّاسٍ أَشَهِدْتَ الْعِيدَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ نَعَمْ وَلَوْلَا مَنْزِلَتِي مِنْهُ مَا شَهِدْتُهُ مِنْ الصِّغَرِ فَأَتَی رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَلَمَ الَّذِي عِنْدَ دَارِ کَثِيرِ بْنِ الصَّلْتِ فَصَلَّی ثُمَّ خَطَبَ وَلَمْ يَذْکُرْ أَذَانًا وَلَا إِقَامَةً قَالَ ثُمَّ أَمَرَنَا بِالصَّدَقَةِ قَالَ فَجَعَلَ النِّسَائُ يُشِرْنَ إِلَی آذَانِهِنَّ وَحُلُوقِهِنَّ قَالَ فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَتَاهُنَّ ثُمَّ رَجَعَ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ

محمد بن کثیر سفیان بن حضرت عبدالرحمن بن عابس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے عبداللہ بن عباس سے پوچھا کہ کیا تم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس عید کی نماز پڑھی ہے؟ انھوں نے کہا ہاں اگر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نگاہ میں میری قدرو منزلت نہ ہوتی تو میں اپنی کم عمری کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کھڑا نہیں ہو سکتا تھاپس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نماز پڑھی اور اس کے بعد خطبہ دیا۔ (مگر ابن عباس نے) اذان اور اقامت کا ذکر نہیں کیا پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صدقہ کا حکم دیا تو عورتیں اپنے گلوں اور کانوں سے زیورات اتارنے لگیں پس آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلال رضی اللہ عنہ کو حکم کیا اور وہ صدقہ لینے عورتوں کے پاس آئے اور صدقہ لے کر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لوٹ گئے۔

-

Permalink

See the full chapter: عید کی نماز کے لیے اذان نہیں ہے