Sunan Abu Dawood — Hadith 685
Narrated by Abdullah ibn Abbas
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ عَنْ مُوسَی بْنِ سَالِمٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فِي شَبَابٍ مِنْ بَنِي هَاشِمٍ فَقُلْنَا لِشَابٍّ مِنَّا سَلْ ابْنَ عَبَّاسٍ أَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ فَقَالَ لَا لَا فَقِيلَ لَهُ فَلَعَلَّهُ کَانَ يَقْرَأُ فِي نَفْسِهِ فَقَالَ خَمْشًا هَذِهِ شَرٌّ مِنْ الْأُولَی کَانَ عَبْدًا مَأْمُورًا بَلَّغَ مَا أُرْسِلَ بِهِ وَمَا اخْتَصَّنَا دُونَ النَّاسِ بِشَيْئٍ إِلَّا بِثَلَاثِ خِصَالٍ أَمَرَنَا أَنْ نُسْبِغَ الْوُضُوئَ وَأَنْ لَا نَأْکُلَ الصَّدَقَةَ وَأَنْ لَا نُنْزِيَ الْحِمَارَ عَلَی الْفَرَسِ
مسدد، عبدالوارث، موسیٰ بن سالم، حضرت عبداللہ بن عبیداللہ سے روایت ہے کہ میں بنی ہاشم کے چند نوجوانوں کے ساتھ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے پاس گیا۔ ہم نے ایک نوجوان سے کہا کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے پوچھو کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں قرات کرتے تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا نہیں نہیں! اس کے بعد پوچھا شاید آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دِل دِل میں پڑھتے ہوں گے۔؟ انھوں نے کہا یہ بات تو پہلی سے بھی زیادہ بری ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو خدا کی طرف سے مامور بندے تھے۔ جو بھی حکم ہوا لوگوں تک پہنچادیا اور ہم نے بنی ہاشم کو بطور خاص کوئی حکم نہیں دیا۔ سوائے تین چیزوں کے۔ ایک خوب اچھی طرح وضو کرنے کا ۔ دوسرے زکوة نہ لینے کا، تیسرے گدھے کو گھوڑی سے جفتی نہ کرنے کا ۔
Narrated Abdullah ibn Abbas: Abdullah ibn Ubaydullah said: I went to Ibn Abbas accompanying some youths of Banu Hashim. We said to one of them: Ask Ibn Abbas: Did the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) recite (the Qur'an) in the noon and afternoon prayers? He replied: No. People said to him: Perhaps he might recite the Qur'an quietly. He said: May your face be scratched (a kind of curse)! This (statement) is worse than the former. He was only a servant (of Allah) receiving Commands from Him. He preached (the divine) message which he brought with him. He did not command anything to us (Banu Hashim) specially excluding other people except three points: he commanded us to perform ablution perfectly, and not to accept charity (sadaqah) and not to make pairing of donkey with horse.