TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 496 · Discussion on Salah

Sunan Abu DawoodHadith 496

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ سَلَمَةَ عَنْ أَبِيهِ أَنَّهُمْ وَفَدُوا إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا أَرَادُوا أَنْ يَنْصَرِفُوا قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَنْ يَؤُمُّنَا قَالَ أَکْثَرُکُمْ جَمْعًا لِلْقُرْآنِ أَوْ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ قَالَ فَلَمْ يَکُنْ أَحَدٌ مِنْ الْقَوْمِ جَمَعَ مَا جَمَعْتُهُ قَالَ فَقَدَّمُونِي وَأَنَا غُلَامٌ وَعَلَيَّ شَمْلَةٌ لِي فَمَا شَهِدْتُ مَجْمَعًا مِنْ جَرْمٍ إِلَّا کُنْتُ إِمَامَهُمْ وَکُنْتُ أُصَلِّي عَلَی جَنَائِزِهِمْ إِلَی يَوْمِي هَذَا قَالَ أَبُو دَاوُد وَرَوَاهُ يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ عَنْ مِسْعَرِ بْنِ حَبِيبٍ الْجَرْمِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ سَلَمَةَ قَالَ لَمَّا وَفَدَ قَوْمِي إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يَقُلْ عَنْ أَبِيهِ

قتیبہ، وکیع، مسعر بن حبیب، حضرت عمر وبن سلمہ بواسطہ سلمہ روایت ہے کہ ان کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جب یہ لوگ واپس جانے لگے تو انھوں نے پوچھا یا رسول اللہ ہماری امامت کون کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کو قرآن زیادہ یاد ہو عمرو بن سلمہ کہتے ہیں کہ میرے برابر کسی کو قرآن یاد نہ تھا۔ انھوں نے امامت کے لیے مجھے آگے بڑھا دیا جبکہ میں بچہ تھا اور ایک تہبند باندھے ہوئے تھا۔ پھر میں قبلہ حرم کے کسی مجمع میں نہ ہوتا مگر میں ہی ان کا امام ہوتا اور آج تک میں ان کے جنازوں کی نماز پڑھتا رہا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ اس کو یذد بن ہارون نے بواسطہ مسعر بن حبیب بسند عمرو بن سلمہ روایت کیا ہے اس میں یوں ہے۔ کہ جب میری قوم کے کچھ لوگ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ اور اس روایت میں ان کے والد کا ذکر نہیں ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: امامت کا مستحق کون ہے؟