Sunan Abu Dawood — Hadith 4449
حَدَّثَنَا النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ حَدَّثَنَا عَاصِمٌ الْأَحْوَلُ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو عُثْمَانَ قَالَ حَدَّثَنِي سَعْدُ بْنُ مَالِکٍ قَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ ادَّعَی إِلَی غَيْرِ أَبِيهِ وَهُوَ يَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ فَالْجَنَّةُ عَلَيْهِ حَرَامٌ قَالَ فَلَقِيتُ أَبَا بَکْرَةَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ سَمِعَتْهُ أُذُنَايَ وَوَعَاهُ قَلْبِي مِنْ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ عَاصِمٌ فَقُلْتُ يَا أَبَا عُثْمَانَ لَقَدْ شَهِدَ عِنْدَکَ رَجُلَانِ أَيُّمَا رَجُلَيْنِ فَقَالَ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَأَوَّلُ مَنْ رَمَی بِسَهْمٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ فِي الْإِسْلَامِ يَعْنِي سَعْدَ بْنَ مَالِکٍ وَالْآخَرُ قَدِمَ مِنْ الطَّائِفِ فِي بِضْعَةٍ وَعِشْرِينَ رَجُلًا عَلَی أَقْدَامِهِمْ فَذَکَرَ فَضْلًا قَالَ النُّفَيْلِيُّ حَيْثُ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَاللَّهِ إِنَّهُ عِنْدِي أَحْلَی مِنْ الْعَسَلِ يَعْنِي قَوْلَهُ حَدَّثَنَا وَحَدَّثَنِي قَالَ أَبُو عَلِيٍّ وَسَمِعْتُ أَبَا دَاوُدَ يَقُولُ سَمِعْتُ أَحْمَدَ يَقُولُ لَيْسَ لِحَدِيثِ أَهْلِ الْکُوفَةِ نُورٌ قَالَ وَمَا رَأَيْتُ مِثْلَ أَهْلِ الْبَصْرَةِ کَانُوا تَعَلَّمُوهُ مِنْ شُعْبَةَ
نفیلی، رہیر، عاصم احول، ابوعثمان، حضرت سعد بن مالک فرماتے ہیں کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے کانوں نے سنا اور میرے قلب نے محفوظ کیا کہ آپ نے فرمایا کہ جس شخص نے اپنے آپ کو غیر کے باپ کی طرف منسوب کیا اور وہ جانتا تھا کہ جس کی طرف منسوب کر رہا ہے وہ اس کا باپ نہیں تو جنت اس پر حرام ہے۔ ابوعثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ پھر میں حضرت ابوبکرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ملا تو آپ کے اس قول کا ان سے تذکرہ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے میرے کانوں نے اس قول کو سنا اور میرے دل نے ان کی حفاظت کی۔ عاصم کہتے ہیں کہ میں نے ابوعثمان سے کہا کہ اے ابوعثمان آپ سے دو مردوں نے گواہی دی ہے تو یہ دو مرد کون تھے انہوں نے کہا کہ ان میں سے پہلے مرد وہ ہیں جنہوں نے اسلام میں اللہ کی راہ میں سب سے پہلا تیر چلایا یعنی سعد بن مالک۔ اور دوسرے مرد وہ ہیں جو بیس سے زائد افراد کے ساتھ پیدل طائف سے آئے۔ اور ان کے کچھ اور فضائل بیان کیے ابوعلی کہتے ہیں کہ میں نے ابوداؤد سے سنا انہوں نے فرمایا کہ خدا کی قسم یہ حدیث میرے نزدیک شہد سے زیادہ میٹھی ہے یعنی حدثنا اور حدثنی کہنا۔ ابوعلی کہتے ہیں کہ میں نے امام ابوداؤد کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ امام احمد نے فرمایا کہ اہل کوفہ کی بیان کردہ احادیث میں نور نہیں ہوتا۔
-