TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 3824 · Explanation of Punishments

Sunan Abu DawoodHadith 3824

Narrated by Ali ibn AbuTalib

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ ح و حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ الْمَعْنَی عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ قَالَ هَنَّادٌ الْجَنْبيُّ قَالَ أُتِيَ عُمَرُ بِامْرَأَةٍ قَدْ فَجَرَتْ فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا فَمَرَّ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخَذَهَا فَخَلَّی سَبِيلَهَا فَأُخْبِرَ عُمَرُ قَالَ ادْعُوا لِي عَلِيًّا فَجَائَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ لَقَدْ عَلِمْتَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنْ الصَّبِيِّ حَتَّی يَبْلُغَ وَعَنْ النَّائِمِ حَتَّی يَسْتَيْقِظَ وَعَنْ الْمَعْتُوهِ حَتَّی يَبْرَأَ وَإِنَّ هَذِهِ مَعْتُوهَةُ بَنِي فُلَانٍ لَعَلَّ الَّذِي أَتَاهَا وَهِيَ فِي بَلَائِهَا قَالَ فَقَالَ عُمَرُ لَا أَدْرِي فَقَالَ عَلِيٌّ عَلَيْهِ السَّلَام وَأَنَا لَا أَدْرِي

ہناد، ابواحوص، عثمان بن ابوشیبہ، جریرمعنی، عطاء بن سایئب، حضرت ابوظبیان رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس ایک بدکاری کرنے والی عورت لائی گئی تو انہوں نے اسے سنگسار کرنے کا حکم دیا۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کرم اللہ وجہہ وہاں سے گذرے تو انہوں نے اسے پکڑا اور چھوڑ دیا حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس کی اطلاع دی گئی تو انہوں نے فرمایا کہ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو میرے پاس لاؤ حضرت علی کرم اللہ وجہہ تشریف لائے اور کہا کہ اے امیر المومنین آپ جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے۔ سونے والے سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے۔ مجنوں سے یہاں تک کہ وہ صحت یاب ہوجائے۔ بچہ پر سے یہاں تک کہ بڑا (بالغ) ہوجائے۔ اور بیشک یہ عورت تو پاگل ہے فلاں قبیلہ کی جس نے اس سے بدکاری کی شاید وہ اس کے پاگل پنے کے وقت کیا ہوگا (اسے پتہ ہی نہ چل سکا) راوی کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ مجھے اس کا علم نہیں۔ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ اور مجھے بھی نہیں معلوم۔

Narrated Ali ibn AbuTalib: AbuZubyan said: A woman who had committed adultery was brought to Umar. He gave orders that she should be stoned. Ali passed by just then. He seized her and let her go. Umar was informed of it. He said: Ask Ali to come to me. Ali came to him and said: Commander of the Faithful, you know that the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) said: There are three (people) whose actions are not recorded: A boy till he reaches puberty, a sleeper till he awakes, a lunatic till he is restored to reason. This is an idiot (mad) woman belonging to the family of so and so. Someone might have done this action with her when she suffered the fit of lunacy. Umar said: I do not know. Ali said: I do not know.

Permalink

See the full chapter: مجنوں چوری کرلے یا کوئی حد والا چوری کرلے