TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 3046 · Explanation of Buying and Selling

Sunan Abu DawoodHadith 3046

Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin

حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَرْوَانَ حَدَّثَنَا أَبِي حَدَّثَنَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ رَجُلًا ابْتَاعَ غُلَامًا فَأَقَامَ عِنْدَهُ مَا شَائَ اللَّهُ أَنْ يُقِيمَ ثُمَّ وَجَدَ بِهِ عَيْبًا فَخَاصَمَهُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَدَّهُ عَلَيْهِ فَقَالَ الرَّجُلُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ اسْتَغَلَّ غُلَامِي فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْخَرَاجُ بِالضَّمَانِ قَالَ أَبُو دَاوُد هَذَا إِسْنَادٌ لَيْسَ بِذَاکَ

ابراہیم بن مروان مسلم بن خالد، ہشام بن عروہ سے مروی ہے کہ ایک شخص نے غلام خریدا وہ غلام جب تک خدا کو منظور تھا اس شخص کے پاس رہا پھر اس نے کوئی عیب غلام میں پایا، وہ اس معاملہ کا قضیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے گیا، حضور علیہ السلام نے اس غلام کو بائع کو واپس کر دیا، بائع کہنے لگا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مشتری نے میرے غلام سے فائدہ اور نفع اٹھایا ہے، حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا منافع ضمان کے ساتھ ہیں جو ضامن ہوگا نقصان کا وہی منافع حاصل کرے گا، امام ابوداؤد فرماتے ہیں کہ اس سند کوئی اعتبار نہیں۔

Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: A man bought a slave, and he remained with him as long as Allah wished him to remain. He then found defect in him. He brought his dispute with him to the Prophet (peace_be_upon_him) and he returned him to him. The man said: Apostle of Allah, my slave earned some wages. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) then said: Profit follows responsibility.

Permalink

See the full chapter: غلام خریدنے کے بعد اسے کسی کام پر لگا دیا پھر کوئی عیب پایا گیا تو کیا کیا جائے ؟