TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 279 · Explanation of Purification

Sunan Abu DawoodHadith 279

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيُّ أَبُو عَلِيٍّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ الْعَبْدِيُّ أَخْبَرَنَا نَافِعٌ قَالَ انْطَلَقْتُ مَعَ ابْنِ عُمَرَ فِي حَاجَةٍ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَضَی ابْنُ عُمَرَ حَاجَتَهُ فَکَانَ مِنْ حَدِيثِهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ قَالَ مَرَّ رَجُلٌ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سِکَّةٍ مِنْ السِّکَکِ وَقَدْ خَرَجَ مِنْ غَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّی إِذَا کَادَ الرَّجُلُ أَنْ يَتَوَارَی فِي السِّکَّةِ ضَرَبَ بِيَدَيْهِ عَلَی الْحَائِطِ وَمَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ ثُمَّ ضَرَبَ ضَرْبَةً أُخْرَی فَمَسَحَ ذِرَاعَيْهِ ثُمَّ رَدَّ عَلَی الرَّجُلِ السَّلَامَ وَقَالَ إِنَّهُ لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْکَ السَّلَامَ إِلَّا أَنِّي لَمْ أَکُنْ عَلَی طُهْرٍ قَالَ أَبُو دَاوُد سَمِعْت أَحْمَدَ بْنَ حَنْبَلٍ يَقُولُ رَوَی مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ حَدِيثًا مُنْکَرًا فِي التَّيَمُّمِ قَالَ ابْنُ دَاسَةَ قَالَ أَبُو دَاوُد لَمْ يُتَابَعْ مُحَمَّدُ بْنُ ثَابِتٍ فِي هَذِهِ الْقِصَّةِ عَلَی ضَرْبَتَيْنِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَوَوْهُ فِعْلَ ابْنِ عُمَرَ

احمد بن ابراہیم، ابوعلی، محمد بن ثابت، حضرت نافع رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر کے ساتھ ایک ضرورت سے حضرت ابن عباس کے گیا اور ابن عمر نے اپنی ضرورت پوری کی اور اس دن حضرت عمر یہ حدیث بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قریب کسی گلی سے گذرا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پاخانہ یا پیشاب سے فارغ ہو کر نکلے تھے اس نے سلام کیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسکے سلام کا جواب نہ دیا یہاں تک کہ جب وہ نگاہوں سے اوجھل ہونے لگا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دونوں ہاتھ دیوار پر مار کر چہرہ پر مسح کیا پھع دوسری بار ہاتھ مار کر دونوں ہاتھوں کا مسح کیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کا جواب دیا اور فرمایا کہ میں نے جواب اس لیے نہیں دیا تھا کہ میں طہارت کی حالت میں نہ تھا ابوداؤد کہتے ہیں کہ میں نے امام احمد ابن حنبل کو فرماتے ہوئے سنا کہ محمد بن ثابت نے تیمم کے سلسلہ میں منکر حدیث بیان کی ہے ابن واسہ نے کہا ہے کہ ابوداؤد کہتے ہیں اس قصہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ضربتان (دو ضرب) پر محمد بن ثابت کی کسی نے متابعت نہیں کی بلکہ میں نے اسکو ابن عمر کا عمل بیان کیا ہے

-

Permalink

See the full chapter: حضر میں تیمم کرنے کا بیان