Sunan Abu Dawood — Hadith 275
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ کَثِيرٍ الْعَبْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ کُهَيْلٍ عَنْ أَبِي مَالِکٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَی قَالَ کُنْتُ عِنْدَ عُمَرَ فَجَائَهُ رَجُلٌ فَقَالَ إِنَّا نَکُونُ بِالْمَکَانِ الشَّهْرَ وَالشَّهْرَيْنِ فَقَالَ عُمَرُ أَمَّا أَنَا فَلَمْ أَکُنْ أُصَلِّي حَتَّی أَجِدَ الْمَائَ قَالَ فَقَالَ عَمَّارٌ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ أَمَا تَذْکُرُ إِذْ کُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ فَأَصَابَتْنَا جَنَابَةٌ فَأَمَّا أَنَا فَتَمَعَّکْتُ فَأَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْتُ ذَلِکَ لَهُ فَقَالَ إِنَّمَا کَانَ يَکْفِيکَ أَنْ تَقُولَ هَکَذَا وَضَرَبَ بِيَدَيْهِ إِلَی الْأَرْضِ ثُمَّ نَفَخَهُمَا ثُمَّ مَسَحَ بِهِمَا وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَی نِصْفِ الذِّرَاعِ فَقَالَ عُمَرُ يَا عَمَّارُ اتَّقِ اللَّهَ فَقَالَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ إِنْ شِئْتَ وَاللَّهِ لَمْ أَذْکُرْهُ أَبَدًا فَقَالَ عُمَرُ کَلَّا وَاللَّهِ لَنُوَلِّيَنَّکَ مِنْ ذَلِکَ مَا تَوَلَّيْتَ
محمد بن کثیر، سفیان، سلمہ بن کہیل، ابومالک، عبدالرحمن بن ابزی سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر کے پاس تھا کہ ایک شخص ان کے پاس آیا اور کہا کہ ہم ماہ دو ماہ ایک جگہ قیام کرتے ہیں (اور وہاں پانی نہیں ہوتا اور ہم جنبی ہوتے ہیں تو ایسی صورت میں ہم کیا کر یں) اس پر حضرت عمر نے فرمایا کہ میں تو اس وقت تک نماز نہ پڑھوں گا جب تک کہ پانی نہ ملے گا یہ سن کر حضرت عمار نے کہا کہ اے امیر المومنین کیا آپ کو یاد نہیں کہ میں اور آپ اونٹوں میں تھے اور ہم جنبی ہو گئے تھے تو میں مٹی میں لوٹ گیا تھا پھر ہم نے واپس آکر حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے واقعہ عرض کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا کہ ایسی صورت میں تمھیں صرف ایسا کرنا کافی تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے ہاتھ زمین پر مار کر پھونک ماری اور اپنے چہرے پر اور ہاتھوں پر نصف ذراع تک پھیر لیا حضرت عمر نے فرمایا۔ اے عمار اللہ سے ڈرو۔ انھوں نے کہا کہ اگر آپ چاہیں تو یہ بات میں کبھی ذکر نہ کروں۔ حضرت عمر نے فرمایا۔ نہیں بخدا میرا یہ مطلب نہیں ہے بلکہ تمھیں اپنی بات کہنے کا اختیار ہے۔
-