TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 2607 · Initial Discussion on Spoils of War and Leadership

Sunan Abu DawoodHadith 2607

حَدَّثَنَا مُصَرِّفُ بْنُ عَمْرٍو الْأَيَامِيُّ حَدَّثَنَا يُونُسُ يَعْنِي ابْنَ بُکَيْرٍ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَقَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي مُحَمَّدٍ مَوْلَی زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ وَعِکْرِمَةَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ لَمَّا أَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُرَيْشًا يَوْمَ بَدْرٍ وَقَدِمَ الْمَدِينَةَ جَمَعَ الْيَهُودَ فِي سُوقِ بَنِي قَيْنُقَاعَ فَقَالَ يَا مَعْشَرَ يَهُودَ أَسْلِمُوا قَبْلَ أَنْ يُصِيبَکُمْ مِثْلُ مَا أَصَابَ قُرَيْشًا قَالُوا يَا مُحَمَّدُ لَا يَغُرَّنَّکَ مِنْ نَفْسِکَ أَنَّکَ قَتَلْتَ نَفَرًا مِنْ قُرَيْشٍ کَانُوا أَغْمَارًا لَا يَعْرِفُونَ الْقِتَالَ إِنَّکَ لَوْ قَاتَلْتَنَا لَعَرَفْتَ أَنَّا نَحْنُ النَّاسُ وَأَنَّکَ لَمْ تَلْقَ مِثْلَنَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِکَ قُلْ لِلَّذِينَ کَفَرُوا سَتُغْلَبُونَ قَرَأَ مُصَرِّفٌ إِلَی قَوْلِهِ فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ بِبَدْرٍ وَأُخْرَی کَافِرَةٌ

مصرف بن عمرو، یونس یعنی ابن بکیر، محمد بن اسحاق، محمد بن ابی محمد، زید بن ثابت، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جنگ بدر میں قریش پر فتح حاصل کرلی اور آپ مدینہ لوٹ آئے تو آپ نے یہودیوں کو بنی قینقاع کے بازار میں جمع کیا اور فرمایا اے یہودیو! اسلام قبول کرلو قبل اس لئے کہ تمھارا بھی وہی حشر ہو جو قریش کا ہو چکا ہے۔ انھوں نے جواب دیا۔ اے محمد! تم اس بات پر نہ اکڑو کہ تم نے چند ناتجربہ کار اور اصول جنگ سے ناواقف قریش کو قتل کر ڈالا۔ اگر تمھارا مقابلہ ہم سے ہوتا تو تمھیں پتہ چلتا کہ ہم کتنے بہادر اور تربیت مافتہ لوگ ہیں اور تم ہم جیسا یہادر اور جنگ باز کسی کو نہ دیکھتے۔ تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی (قُلْ لِّ لَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَ تُغْلَبُوْنَ) 3۔ آل عمران : 12) اس حدیث کے ایک راوی مصرف نے اس آیت کو فِئَةٌ تُقَاتِلُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ (3۔ آل عمران : 13) بِبَدْرٍ وَأُخْرَی کَافِرَةٌ۔ تک پڑھا۔

-

Permalink

See the full chapter: مدینہ سے یہودیوں کے اخراج کا سبب