Sunan Abu Dawood — Hadith 2589
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنَا عَنْبَسَةُ حَدَّثَنَا يُونُسُ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَنِي يَزِيدُ بْنُ هُرْمُزَ أَنَّ نَجْدَةَ الْحَرُورِيَّ حِينَ حَجَّ فِي فِتْنَةِ ابْنِ الزُّبَيْرِ أَرْسَلَ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ يَسْأَلُهُ عَنْ سَهْمِ ذِي الْقُرْبَی وَيَقُولُ لِمَنْ تَرَاهُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ لِقُرْبَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَسَمَهُ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَدْ کَانَ عُمَرُ عَرَضَ عَلَيْنَا مِنْ ذَلِکَ عَرْضًا رَأَيْنَاهُ دُونَ حَقِّنَا فَرَدَدْنَاهُ عَلَيْهِ وَأَبَيْنَا أَنْ نَقْبَلَهُ
احمد بن صالح، عنبسہ، یونس، ابن شہاب، حضرت یزید بن ہرمز سے روایت ہے کہ (خارجیوں کے سردار) نجدہ حروری نے جب عبداللہ بن زبیر کی شہادت کے موقعہ پر حج کیا تو اس نے ایک شخص کو حضرت عبداللہ بن عباس کے پاس ذوی القربی کا حصہ دریافت کرنے کے لیے بھیجا اور پوچھا کہ آپ کی رائے میں ذوی القربی سے مراد کون ہے؟ تو جواب میں حضرت ابن عباس نے فرمایا اس سے مراد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قرابت دار ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکو حصہ دیا تھا اور حضرت عمر نے اس میں سے ہمارے سامنے بھی پیش کیا ہم نے اپنے حق سے کم سمجھ کر اس کو لوٹا دیا اور اس کو لینے سے انکار کر دیا۔
-