Sunan Abu Dawood — Hadith 2522
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ الزُّهْرِيِّ عَنْ عَلِيِّ بْنِ حُسَيْنٍ عَنْ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ تَنْزِلُ غَدًا فِي حِجَّتِهِ قَالَ وَهَلْ تَرَکَ لَنَا عَقِيلٌ مَنْزِلًا ثُمَّ قَالَ نَحْنُ نَازِلُونَ بِخَيْفِ بَنِي کِنَانَةَ حَيْثُ تَقَاسَمَتْ قُرَيْشٌ عَلَی الْکُفْرِ يَعْنِي الْمُحَصَّبِ وَذَاکَ أَنَّ بَنِي کِنَانَةَ حَالَفَتْ قُرَيْشًا عَلَی بَنِي هَاشِمٍ أَنْ لَا يُنَاکِحُوهُمْ وَلَا يُبَايِعُوهُمْ وَلَا يُؤْوُوهُمْ قَالَ الزُّهْرِيُّ وَالْخَيْفُ الْوَادِي
احمد بن حنبل، عبدالرزاق، معمر، زہری، علی بن حسین، عمرو بن عثمان، اسامہ بن زید سے روایت ہے کہ آپ کے زمانہ حج میں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ کل آپ کہاں اتریں گے؟ (یعنی کس گھر میں قیام فرما ہوں گے؟) آپ نے فرمایا کیا عقیل نے (ابن ابی طالب نے) ہمارے لیے کوئی گھر چھوڑا ہے؟ (یعنی نہیں چھوڑا) پھر آپ نے فرمایا ہم بنی کنانہ کے خیف میں۔ جہاں قریش نے کفر پر قسم کھائی تھی۔ یعنی محصب میں اتریں گے۔ اس میں کفر پر قسم کھانے سے مراد وہ معاہدہ ہے جو بنی کنانہ نے قریش کے ساتھ کیا تھا یعنی یہ کہ ہم بنو ہاشم سے نہ نکاح کے معاملات کریں گے اور نہ ان سے خرید وفروخت کریں گے اور نہ ہم انکو پناہ دیں گے۔
-