Sunan Abu Dawood — Hadith 2361
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ عَنْ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَاصِمٍ عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ قَالَ جِئْتُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَدْرٍ بِسَيْفٍ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ اللَّهَ قَدْ شَفَی صَدْرِي الْيَوْمَ مِنْ الْعَدُوِّ فَهَبْ لِي هَذَا السَّيْفَ قَالَ إِنَّ هَذَا السَّيْفَ لَيْسَ لِي وَلَا لَکَ فَذَهَبْتُ وَأَنَا أَقُولُ يُعْطَاهُ الْيَوْمَ مَنْ لَمْ يُبْلِ بَلَائِي فَبَيْنَمَا أَنَا إِذْ جَائَنِي الرَّسُولُ فَقَالَ أَجِبْ فَظَنَنْتُ أَنَّهُ نَزَلَ فِيَّ شَيْئٌ بِکَلَامِي فَجِئْتُ فَقَالَ لِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّکَ سَأَلْتَنِي هَذَا السَّيْفَ وَلَيْسَ هُوَ لِي وَلَا لَکَ وَإِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَهُ لِي فَهُوَ لَکَ ثُمَّ قَرَأَ يَسْأَلُونَکَ عَنْ الْأَنْفَالِ قُلْ الْأَنْفَالُ لِلَّهِ وَالرَّسُولِ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ قَالَ أَبُو دَاوُد قِرَائَةُ ابْنِ مَسْعُودٍ يَسْأَلُونَکَ النَّفْلَ
ہناد بن سری، ابوبکر عاصم، مصعب بن سعد، حضرت سعد بن ابی وقاص سے روایت ہے کہ بدر کے دن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ایک تلوار لینے کے لیے آیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آج اللہ تعالیٰ نے دشمن سے میرے دل کو شفا بخشی ہے لہذا تلوار مجھے دید یجئے۔ آپ نے فرمایا یہ تلوار نہ میری ہے اور نہ تیری (بلکہ سب کا مشترک حصہ ہے) یہ سن کر میں وہاں سے چل دیا اور یہ کہتا جارہا تھا کہ آج یہ تلوار اس کو ملے گی جس کا امتحان مجھ جیسا نہیں ہو ا۔ اتنے میں ایک شخص آپکی طرف سے مجھے بلا نے آیا اور بولا چل میں سمجھا شاید میرے اس کہنے پر میرے بارے میں کوئی حکم نازل ہوا ہے جب میں آپ کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا تو نے مجھ سے یہ تلوار مانگی تھی لیکن اس وقت تک یہ نہ میری تھی اور نہ تیری اب اللہ نے یہ تلوار مجھے دے دی ہے تو اب تو اس کو لے سکتا ہے۔ پھر آپ نے یہ پڑھا (ترجمہ) لوگ آپ سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں کہہ دیجئے انفال اللہ اور رسول کے لیے ہے۔ آخر آیت تک پڑھا۔ ابوداؤد کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن مسعود کی قرات میں (بجائے یَس
-