Sunan Abu Dawood — Hadith 2317
Narrated by Aisha, Ummul Mu'minin
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ عَنْ يَحْيَی بْنِ عَبَّادٍ عَنْ أَبِيهِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ لَمَّا بَعَثَ أَهْلُ مَکَّةَ فِي فِدَائِ أَسْرَاهُمْ بَعَثَتْ زَيْنَبُ فِي فِدَائِ أَبِي الْعَاصِ بِمَالٍ وَبَعَثَتْ فِيهِ بِقِلَادَةٍ لَهَا کَانَتْ عِنْدَ خَدِيجَةَ أَدْخَلَتْهَا بِهَا عَلَی أَبِي الْعَاصِ قَالَتْ فَلَمَّا رَآهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَقَّ لَهَا رِقَّةً شَدِيدَةً وَقَالَ إِنْ رَأَيْتُمْ أَنْ تُطْلِقُوا لَهَا أَسِيرَهَا وَتَرُدُّوا عَلَيْهَا الَّذِي لَهَا فَقَالُوا نَعَمْ وَکَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ عَلَيْهِ أَوْ وَعَدَهُ أَنْ يُخَلِّيَ سَبِيلَ زَيْنَبَ إِلَيْهِ وَبَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْدَ بْنَ حَارِثَةَ وَرَجُلًا مِنْ الْأَنْصَارِ فَقَالَ کُونَا بِبَطْنِ يَأْجَجَ حَتَّی تَمُرَّ بِکُمَا زَيْنَبُ فَتَصْحَبَاهَا حَتَّی تَأْتِيَا بِهَا
عبداللہ بن محمد، محمد بن سلمہ بن اسحاق ، یحیی بن عباد، عباد بن عبداللہ بن زبیر، حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ جب اہل مکہ نے اپنے قیدیوں کے فدیے بھیجے تو (آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادی) حضرت زینب نے اپنے شوہر ابوالعاص کے فدیہ میں مال بھیجا جس میں ان کا ایک ہار بھی تھا جو انکو اپنی والدہ حضرت خدیجہ کی طرف سے ملا۔ حضرت عائشہ فرماتی ہیں جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ ہار دیکھا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر شدید رقت طاری ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا اگر مناسب سمجھو تو زینب کی دلداری کی خاطر اس کے قیدی کو چھوڑ دو اور جو مال اسکا ہے وہ اسی کو لوٹادو۔ صحابہ کرام نے اس سے اتفاق کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ابوالعاص کو چھوڑتے وقت عہدلیا کہ وہ زینب کو ان کے پاس آنے سے نہیں روکیں گے۔ (کیونکہ اس وقت تک حضرت زینب مکہ میں تھیں اور ان کے شوہر ابوالعاص ایمان نہیں لائے تھے) اور پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زید بن حارثہ اور ایک انصاری شخص کو زینب کو لانے کے لیے مکہ روانہ فرمایا اور ان سے فرمایا جب تک زینب تمھارے پاس نہ پہنچ جائیں تم بطن یا جج میں ٹھہرے رہنا اور جب وہ جائیں تو ان کے ساتھ رہنا اور ان کو لے کر یہاں آنا۔
Narrated Aisha, Ummul Mu'minin: When the people of Mecca sent about ransoming their prisoners Zaynab sent some property to ransom Abul'As, sending among it a necklace of hers which Khadijah had had, and (which she) had given to her when she married Abul'As. When the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) saw it, he felt great tenderness about it and said: If you consider that you should free her prisoner for her and return to her what belongs to her, (it will be well). They said: Yes. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) made an agreement with him that he should let Zaynab come to him, and the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) sent Zayd ibn Harithah and a man of the Ansar (the Helpers) and said: Wait in the valley of Yajij till Zaynab passes you, then you should accompany her and bring her back.