TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 2313 · Explanation of Jihad

Sunan Abu DawoodHadith 2313

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ عَنْ أَنَسٍ أَنَّ ثَمَانِينَ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ مَکَّةَ هَبَطُوا عَلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مِنْ جِبَالِ التَّنْعِيمِ عِنْدَ صَلَاةِ الْفَجْرِ لِيَقْتُلُوهُمْ فَأَخَذَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سِلْمًا فَأَعْتَقَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ الَّذِي کَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْکُمْ وَأَيْدِيَکُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَکَّةَ إِلَی آخِرِ الْآيَةِ

موسی بن اسماعیل، حماد، ثابت، حضرت انس سے روایت ہے کہ (حدیبیہ کے سال میں) مکہ کے انتیس آدمی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب کے قتل کے ارادہ سے تنعیم کے پہاڑ سے فجر کی نماز کے وقت اترے۔ لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو زندہ سلامت پکڑ لیا اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو آزاد کر دیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی وہ اللہ ایسا ہے جس نے وادی مکہ میں ان کا ہاتھ تم سے اور تمھارا ہاتھ ان سے روکے رکھا۔ آخرتک

-

Permalink

See the full chapter: قیدی کو فدیہ لیے بغیر احسان کے طور پر چھوڑ دینا