TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 2147 · Explanation of Jihad

Sunan Abu DawoodHadith 2147

حَدَّثَنَا مُوسَی بْنُ إِسْمَعِيلَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ عَنْ حُمَيْدٍ عَنْ مُوسَی بْنِ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ عَنْ أَبِيهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَقَدْ تَرَکْتُمْ بِالْمَدِينَةِ أَقْوَامًا مَا سِرْتُمْ مَسِيرًا وَلَا أَنْفَقْتُمْ مِنْ نَفَقَةٍ وَلَا قَطَعْتُمْ مِنْ وَادٍ إِلَّا وَهُمْ مَعَکُمْ فِيهِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَکَيْفَ يَکُونُونَ مَعَنَا وَهُمْ بِالْمَدِينَةِ فَقَالَ حَبَسَهُمْ الْعُذْرُ

موسی بن اسماعیل، حماد، حمید، موسیٰ بن انس، حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ (ایک مرتبہ دوران جہاد) جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تم مدینہ میں کچھ لوگوں کو چھوڑ آئے ہو۔ مگر جس قدر تم چلو گے اور جس قدر تم خرچ کرو گے اللہ کی راہ میں اس جس قدر وادی طے کرو گے وہ لوگ اجرو ثواب میں تمہارے ساتھ شریک ہوں گے۔ لوگوں نے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! وہ ہمارے ساتھ کیسے ہو سکتے ہیں جبکہ وہ مدینہ میں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ان کو عذر نے روک دیا۔

-

Permalink

See the full chapter: عذر کی بنیاد پر جہاد میں عدم شرکت جائز ہے