TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1920 · Statement on Divorce

Sunan Abu DawoodHadith 1920

حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا جَرِيرٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عَلْقَمَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ إِنَّا لَلَيْلَةُ جُمُعَةٍ فِي الْمَسْجِدِ إِذْ دَخَلَ رَجُلٌ مِنْ الْأَنْصَارِ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَکَلَّمَ بِهِ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ فَإِنْ سَکَتَ سَکَتَ عَلَی غَيْظٍ وَاللَّهِ لَأَسْأَلَنَّ عَنْهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا کَانَ مِنْ الْغَدِ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَهُ فَقَالَ لَوْ أَنَّ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِهِ رَجُلًا فَتَکَلَّمَ بِهِ جَلَدْتُمُوهُ أَوْ قَتَلَ قَتَلْتُمُوهُ أَوْ سَکَتَ سَکَتَ عَلَی غَيْظٍ فَقَالَ اللَّهُمَّ افْتَحْ وَجَعَلَ يَدْعُو فَنَزَلَتْ آيَةُ اللِّعَانِ وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَکُنْ لَهُمْ شُهَدَائُ إِلَّا أَنْفُسُهُمْ هَذِهِ الْآيَةَ فَابْتُلِيَ بِهِ ذَلِکَ الرَّجُلُ مِنْ بَيْنِ النَّاسِ فَجَائَ هُوَ وَامْرَأَتُهُ إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَلَاعَنَا فَشَهِدَ الرَّجُلُ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّهِ إِنَّهُ لَمِنْ الصَّادِقِينَ ثُمَّ لَعَنَ الْخَامِسَةَ عَلَيْهِ إِنْ کَانَ مِنْ الْکَاذِبِينَ قَالَ فَذَهَبَتْ لِتَلْتَعِنَ فَقَالَ لَهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَهْ فَأَبَتْ فَفَعَلَتْ فَلَمَّا أَدْبَرَا قَالَ لَعَلَّهَا أَنْ تَجِيئَ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا فَجَائَتْ بِهِ أَسْوَدَ جَعْدًا

عثمان بن ابی شیبہ، جریر، اعمش، ابراہیم، علقمہ، حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ میں ایک دن جمعہ کی رات مسجد میں بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک انصاری شخص آیا اور کہنے لگا اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی اجنبی مرد کو پائے اور پھر وہ اس پر زنا کا الزام لگائے تو تم اس کو حد قذف میں کوڑے لگاؤ گے اور قتل کرنے پر اس کو قتل کر ڈالو گے اور اگر خاموشی اختیار کرے تو خون کے گھوٹ پئے خدا کی قسم میں یہ مسئلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ضرور دریافت کروں گا جب اگلا دن ہوا تو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس یہ مسئلہ پوچھنے کے لیے آیا اور یہی کہا کہ اگر کوئی شخص اپنی بیوی کے پاس کسی اجنبی مرد کو پائے اور اس پر زنا کا الزام لگائے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کو کوڑے لگائیں گے یا قتل کر دے تو اس کو قصاصا قتل کر دیں گے اور اگر خاموشی اختیار کرے تو خون کے سے گھونٹ پئے یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے لیے دعا فرمائی کہ اے اللہ اس کے بارے میں کوئی حکم جاری فرما آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دعا کر ہی رہے تھے کہ یہ آیت نازل ہوئی (ترجمہ) جو لوگ اپنی بیویوں پر زنا کا الزام لگائیں اور ان کے پاس ثبوت پیش کر نے کے لیے کوئی گواہ موجود نہ ہو سوائے اپنی ذات کے تو۔ پس وہ شخص جو اس مصیبت میں مبتلا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور اس کی بیوی بھی آئی پھر دونوں نے لعان کیا یعنی پہلے مرد نے چار مرتبہ اللہ کا نام لے کر گواہی دی کہ وہ اپنے الزام میں سچا ہے پھر پانچویں مرتبہ لعنت کرتے ہوئے کہا کہ اس پر خدا کی لعنت ہو جو جھوٹ بولے اس کے بعد عورت نے لعان کرنا چاہا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کو جھڑک دیا لیکن وہ نہیں مانی اور اس نے بھی اسی طرح لعان کیا جب وہ دونوں وہاں سے چلے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا شاید اس عورت کے گھونگریالے بالوں والا بچہ سیاہ رنگ کا پیدا ہوگا پھر جب اس کے بچہ پیدا ہوا تو وہ گھونگریالے بالوں والا اور سیاہ رنگ کا تھا یعنی عورت پر زنا کا الزام درست نکلا۔

-

Permalink

See the full chapter: لعان کا طریقہ