TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1812 · Discussion on Marriage

Sunan Abu DawoodHadith 1812

حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ حَدَّثَنَا يَحْيَی عَنْ سُفْيَانَ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَکْرٍ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ أَبِي بَکْرٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا تَزَوَّجَ أُمَّ سَلَمَةَ أَقَامَ عِنْدَهَا ثَلَاثًا ثُمَّ قَالَ لَيْسَ بِکِ عَلَی أَهْلِکِ هَوَانٌ إِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَکِ وَإِنْ سَبَّعْتُ لَکِ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي

زہیر بن حرب، یحیی، سفیان، محمد بن ابی بکر، عبدالملک، بن ابی بکر، حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے وہ فرماتی ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے نکاح کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کے پاس تین رات رہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمھارے پاس میرا رہنا تین ہی رات کا ہے اور اس میں تمھارے یا تمھارے قبیلہ کی رسوائی کی کوئی بات نہیں ہے اگر تم چاہو تو میں تمھارے پاس سات رات تک رہ سکتا ہوں مگر اس صورت میں دوسری بیویوں کے پاس بھی سات راتیں گزاروں گا (کیونکہ بیویوں کے درمیان عدل ضروری ہے)

-

Permalink

See the full chapter: باکرہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے پاس کتنے دن رہے