Sunan Abu Dawood — Hadith 1613
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْأَنْبَارِيُّ حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ سُلَيْمٍ عَنْ ابْنِ خُثَيْمٍ عَنْ أَبِي الطُّفَيْلِ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اضْطَبَعَ فَاسْتَلَمَ وَکَبَّرَ ثُمَّ رَمَلَ ثَلَاثَةَ أَطْوَافٍ وَکَانُوا إِذَا بَلَغُوا الرُّکْنَ الْيَمَانِيَ وَتَغَيَّبُوا مِنْ قُرَيْشٍ مَشَوْا ثُمَّ يَطْلُعُونَ عَلَيْهِمْ يَرْمُلُونَ تَقُولُ قُرَيْشٌ کَأَنَّهُمْ الْغِزْلَانُ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَکَانَتْ سُنَّةً
محمد بن سلیمان، یحیی بن سلیم، ابن خثیم، طفیل، حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اضطباع کیا اور پھر استلام کیا (یعنی حجر اسود کو بوسہ دیا) اور تکبیر کہی پھر تین پھیروں میں رمل کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اصحاب رکن یمانی کے پاس پہنچے اور قریش کی نگاہوں سے اوجھل ہو گئے تو حسب معمول رفتار سے چلے پھر جب آمنے سامنے آئے تو پھر رمل کیا یہاں تک کہ قریش کہنے لگے کہ گویا یہ ہرنیں ہیں۔ ابن عباس نے کہا پھر یہ فعل (یعنی رمل) سنت ہو گیا۔
-