Sunan Abu Dawood — Hadith 1560
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَقَ قَالَ ذَکَرْتُ لِابْنِ شِهَابٍ فَقَالَ حَدَّثَنِي سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ يَعْنِي ابْنَ عُمَرَ کَانَ يَصْنَعُ ذَلِکَ يَعْنِي يَقْطَعُ الْخُفَّيْنِ لِلْمَرْأَةِ الْمُحْرِمَةِ ثُمَّ حَدَّثَتْهُ صَفِيَّةُ بِنْتُ أَبِي عُبَيْدٍ أَنَّ عَائِشَةَ حَدَّثَتْهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ کَانَ رَخَّصَ لِلنِّسَائِ فِي الْخُفَّيْنِ فَتَرَکَ ذَلِکَ
قتیبہ بن سعید، ابن ابی عدی، محمد بن اسحاق سے روایت ہے کہ میں نے ابن شہاب سے (قطع خفین) کا ذکر کیا انھوں نے کہا کہ ہم سے سالم بن عبداللہ نے حدیث بیان کی کہ عبداللہ بن عمر ایسا کرتے تھے یعنی محرمہ عورت کے خفین کاٹ دیا کرتے تھے پھر ان سے (ان کی اہلیہ) صفیہ بنت ابی عبید نے بیان کیا کہ ہم سے حضرت عائشہ نے فرمایا ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو خفین (موزے) پہننے کی رخصت دی ہے اس کے بعد حضرت عبداللہ بن عمر نے محرمہ عورت کے لیے موزے کاٹنے کا عمل ترک کر دیا (کیونکہ احرام کی حالت میں عورت کے لیے ٹخنہ کھلا رکھنا ضروری نہیں ہے البتہ مرد کے لیے ضروری ہے)
-