TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1509 · Statement on Hajj Rites

Sunan Abu DawoodHadith 1509

حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ عَنْ مَالِکٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ جُرَيْجٍ أَنَّهُ قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ رَأَيْتُکَ تَصْنَعُ أَرْبَعًا لَمْ أَرَ أَحَدًا مِنْ أَصْحَابِکَ يَصْنَعُهَا قَالَ مَا هُنَّ يَا ابْنَ جُرَيْجٍ قَالَ رَأَيْتُکَ لَا تَمَسُّ مِنْ الْأَرْکَانِ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ وَرَأَيْتُکَ تَلْبَسُ النِّعَالَ السِّبْتِيَّةَ وَرَأَيْتُکَ تَصْبُغُ بِالصُّفْرَةِ وَرَأَيْتُکَ إِذَا کُنْتَ بِمَکَّةَ أَهَلَّ النَّاسُ إِذَا رَأَوْا الْهِلَالَ وَلَمْ تُهِلَّ أَنْتَ حَتَّی کَانَ يَوْمَ التَّرْوِيَةِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ أَمَّا الْأَرْکَانُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمَسُّ إِلَّا الْيَمَانِيَّيْنِ وَأَمَّا النِّعَالُ السِّبْتِيَّةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَلْبَسُ النِّعَالَ الَّتِي لَيْسَ فِيهَا شَعْرٌ وَيَتَوَضَّأُ فِيهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَلْبَسَهَا وَأَمَّا الصُّفْرَةُ فَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْبُغُ بِهَا فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَصْبُغَ بِهَا وَأَمَّا الْإِهْلَالُ فَإِنِّي لَمْ أَرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُهِلُّ حَتَّی تَنْبَعِثَ بِهِ رَاحِلَتُهُ

قعنبی، مالک، سعید بن ابی سعید، عبید بن جریج سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ اے ابوعبدالرحمن میں نے تم کو چار ایسی چیزیں کرتے دیکھا ہے جو میں نے تمھارے ساتھیوں میں سے کسی کو کرتے نہیں دیکھا انہوں نے کہا وہ کیا چیزیں ہیں؟ میں نے کہا کہ تم طواف میں صرف رکن یمانی اور حجر اسود کو چھوتے ہو اور تم ایسے جوتے پہنتے ہو جس کے چمڑے میں بال نہیں ہوتے اور تم (بالوں یا کپڑوں کو رنگنے میں) زرد رنگ کا استعمال کرتے ہو اور میں نے دیکھا کہ جب تم مکہ میں ہوتے ہو (تو چاند دیکھتے ہی احرام نہیں باندھتے بلکہ) یوم الترویہ (آٹھویں تاریخ) کو باندھتے ہو جبکہ اور تمام لوگ چاند دیکھتے ہی احرام باندھ لیتے ہیں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ جہاں تک ارکان کو چھونے کی بات ہے تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کسی رکن کو چھوتے نہیں دیکھا سوائے رکن یمانی اور حجر اسود کے اور بغیر بالوں کے چمڑے کے جوتے کے متعلق عرض ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ایسے چمڑے کے جوتے پہنے دیکھا ہے جس میں بال نہیں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انھیں کو پہنے پہنے وضو بھی کر لیتے تھے اس لیے میں بھی ایسے ہی جوتے پہننا پسند کرتا ہوں اور زرد رنگ کی بات یہ ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو زرد رنگ سے (بالوں یا کپڑوں) کو رنگتے ہوئے دیکھا ہے پس اسی لیے میں بھی زرد رنگ سے رنگنا پسند کرتا ہوں اور اہلال (احرام باندھنے) کی بات ہی ہے کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلبیہ پڑھتے نہیں سنا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اونٹ چلنے کے واسطے کھڑا ہو جاتا ہے۔

-

Permalink

See the full chapter: احرام باندھنے کا وقت