TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1388 · Book on Zakat

Sunan Abu DawoodHadith 1388

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ حَدَّثَنَا مِسْکِينٌ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُهَاجِرِ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ عَنْ أَبِي کَبْشَةَ السَّلُولِيِّ حَدَّثَنَا سَهْلُ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ قَالَ قَدِمَ عَلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُيَيْنَةُ بْنُ حِصْنٍ وَالْأَقْرَعُ بْنُ حَابِسٍ فَسَأَلَاهُ فَأَمَرَ لَهُمَا بِمَا سَأَلَا وَأَمَرَ مُعَاوِيَةَ فَکَتَبَ لَهُمَا بِمَا سَأَلَا فَأَمَّا الْأَقْرَعُ فَأَخَذَ کِتَابَهُ فَلَفَّهُ فِي عِمَامَتِهِ وَانْطَلَقَ وَأَمَّا عُيَيْنَةُ فَأَخَذَ کِتَابَهُ وَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَانَهُ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ أَتُرَانِي حَامِلًا إِلَی قَوْمِي کِتَابًا لَا أَدْرِي مَا فِيهِ کَصَحِيفَةِ الْمُتَلَمِّسِ فَأَخْبَرَ مُعَاوِيَةُ بِقَوْلِهِ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَأَلَ وَعِنْدَهُ مَا يُغْنِيهِ فَإِنَّمَا يَسْتَکْثِرُ مِنْ النَّارِ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ مِنْ جَمْرِ جَهَنَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا يُغْنِيهِ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ وَمَا الْغِنَی الَّذِي لَا تَنْبَغِي مَعَهُ الْمَسْأَلَةُ قَالَ قَدْرُ مَا يُغَدِّيهِ وَيُعَشِّيهِ وَقَالَ النُّفَيْلِيُّ فِي مَوْضِعٍ آخَرَ أَنْ يَکُونَ لَهُ شِبْعُ يَوْمٍ وَلَيْلَةٍ أَوْ لَيْلَةٍ وَيَوْمٍ وَکَانَ حَدَّثَنَا بِهِ مُخْتَصَرًا عَلَی هَذِهِ الْأَلْفَاظِ الَّتِي ذَکَرْتُ

عبداللہ بن محمد، مسکین، محمد بن مہاجر، بیعہ بن یزید، ابوکبشہ، حضرت سہل بن حنظلیہ سے روایت ہے کہ عیینہ بن حصن اور اقرع بن حابس رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کیا انہوں نے جو مانگا تھا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انکو وہ دینے کا حکم کیا اور معاویہ کو حکم دیا ان کے واسطے ایک تحریر لکھ دینے کا ۔ اقرع نے تو وہ تحریر لے کر اپنے عمامہ میں لپیٹ لی اور چلے۔ لیکن عیینہ وہ تحریر لے کر رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئے اور بولے اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کیا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ چاہتے ہیں کہ میں اپنی قوم کے پاس ایسی تحریر لے کر جاؤں جسکا مضمون مجھے معلوم نہیں جیسا کہ متلمس کا صحیفہ تھا معاویہ نے انکی یہ بات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیان فرمائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جو سوال کرے گا غناء کے ساتھ تو گویا وہ زیادہ کرتا ہے جہنم کی آگ کو ایک دوسری جگہ نفیلی نے کہا جہنم کے انگاروں کو۔ لوگوں نے پوچھا یا رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غناء کا مفہوم کیا ہے اور ایک دوسرے مقام پر نفیلی نے کہا کہ وہ کیا غنا ہے جس سے سوال حرام ہوتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا جس کے پاس صبح اور شام کا کھانا موجود ہو ایک روایت میں نفیلی نے کہا جس کے پاس ایک دن رات کے لیے پیٹ بھر کر کھانے کے لیے موجود ہو ابوداؤد نے کہا کہ یہ حدیث جو ہم نے ذکر کی ہے نفیلی نے مختصر طور پر بیان کی۔

-

Permalink

See the full chapter: مالداری کی حد اور زکوة کے مستحقین