Sunan Abu Dawood — Hadith 1341
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ قَالَ قَالَ مَالِکٌ وَقَوْلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ هُوَ أَنْ يَکُونَ لِکُلِّ رَجُلٍ أَرْبَعُونَ شَاةً فَإِذَا أَظَلَّهُمْ الْمُصَدِّقُ جَمَعُوهَا لِئَلَّا يَکُونَ فِيهَا إِلَّا شَاةٌ وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ أَنَّ الْخَلِيطَيْنِ إِذَا کَانَ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مِائَةُ شَاةٍ وَشَاةٌ فَيَکُونُ عَلَيْهِمَا فِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ فَإِذَا أَظَلَّهُمَا الْمُصَدِّقُ فَرَّقَا غَنَمَهُمَا فَلَمْ يَکُنْ عَلَی کُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا إِلَّا شَاةٌ فَهَذَا الَّذِي سَمِعْتُ فِي ذَلِکَ
عبداللہ بن مسلمہ، حضرت مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول (وجوب زکوة سے بچنے کے لیے) متفرق مال کو اکٹھا نہ کیا جائے اور نہ اکٹھے مال کو متفرق کیا جائے کا مطلب یہ ہے کہ دو افراد ہوں جن میں سے ہر ایک کی چالیس چالیس بکریاں ہوں پس جب زکوة اصول کرنے والا ان کے پاس آئے تو وہ (متفرق مال) اکھٹا کرلیں تاکہ ان سب پر صرف ایک ہی بکری واجب ہو اور اکٹھے مال کو متفرق نہ کیا جائے کا مطلب یہ ہے کہ دو شریک ہوں جنمیں سے ہر ایک کی ایک سو ایک بکریاں ہیں اور ان دونوں پر مشترکہ طور پر تین بکریاں واجب ہوتی ہیں لیکن جب زکوة وصول کرنے والا آئے تو وہ اپنی اپنی بکریاں الگ الگ کرلیں اور اس طرح ان میں سے ہر ایک پر ایک ایک بکری لازم آئے گی، حضرت مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ یہ ہے وہ تفسیر جو میں نے مندرجہ بالا قول کی سنی ہے۔
-