TrueHadith

Sunan Abu Dawood, Hadith 1066 · Discussion on Salah

Sunan Abu DawoodHadith 1066

Narrated by Bilal

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ حَدَّثَنَا أَبُو الْمُغِيرَةِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْعَلَائِ حَدَّثَنِي أَبُو زِيَادَةَ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادَةَ الْکِنْدِيُّ عَنْ بِلَالٍ أَنَّهُ حَدَّثَهُ أَنَّهُ أَتَی رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيُؤْذِنَهُ بِصَلَاةِ الْغَدَاةِ فَشَغَلَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا بِلَالًا بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّی فَضَحَهُ الصُّبْحُ فَأَصْبَحَ جِدًّا قَالَ فَقَامَ بِلَالٌ فَآذَنَهُ بِالصَّلَاةِ وَتَابَعَ أَذَانَهُ فَلَمْ يَخْرُجْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا خَرَجَ صَلَّی بِالنَّاسِ وَأَخْبَرَهُ أَنَّ عَائِشَةَ شَغَلَتْهُ بِأَمْرٍ سَأَلَتْهُ عَنْهُ حَتَّی أَصْبَحَ جِدًّا وَأَنَّهُ أَبْطَأَ عَلَيْهِ بِالْخُرُوجِ فَقَالَ إِنِّي کُنْتُ رَکَعْتُ رَکْعَتَيْ الْفَجْرِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّکَ أَصْبَحْتَ جِدًّا قَالَ لَوْ أَصْبَحْتُ أَکْثَرَ مِمَّا أَصْبَحْتُ لَرَکَعْتُهُمَا وَأَحْسَنْتُهُمَا وَأَجْمَلْتُهُمَا

احمد بن حنبل، ابومغیرہ، عبداللہ بن علاء، ابوزیاد عبیداللہ بن زیاد، حضرت بلال رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ وہ صبح کی نماز کے لیے بلانے کو رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گئے پس حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے ان سے کسی امر کے متعلق دریافت کیا اور گفتگو میں مشغول رہیں یہاں تک کہ صبح خوب روشن ہوگی پس بلال رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور بار بار نماز کے لیے بلانے لگے لیکن ان کے بلانے پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف نہیں لائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر تشریف لائے تو لوگوں کو نماز پڑھائی اور حضرت بلال رضی اللہ عنہ نے تاخیر سے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتایا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کس چیز کے متعلق پوچھا اور باتوں مشغول ہو گئیں یہاں تک کہ خوب صبح روشن ہوگئی اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے نکلنے میں تاخیر کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا میں فجر کی سنتیں پڑھ رہا تھا حضرت بلال نے کہا یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت تاخیر فرمائی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اگر اس سے بھی زیادہ تاخیر ہو جاتی تب بھی میں ان رکعتوں کو خوب اچھی طرح پڑھتا۔

Narrated Bilal: Ziyadah al-Kindi reported on the authority of Bilal that he (Bilal) came to the Apostle of Allah (peace_be_upon_him) to inform him about the dawn prayer. Aisha kept Bilal engaged in a matter which she asked him till the day was bright and it became fairly light. Bilal then stood up and called him to prayer and called him repeatedly. The Apostle of Allah (peace_be_upon_him) did not yet come out. When he came out, he led the people in prayer and he (Bilal) informed him that Aisha had kept him engaged in a matter which she asked him till it became fairly light; hence he became late in reaching him (in time). He (Bilal) said: Apostle of Allah, the dawn became fairly bright. He said: If the dawn became brighter than it is now, I would pray them (the two rak'ahs of the sunnah prayer), offer them well and in a more beautiful manner.

Permalink

See the full chapter: فجر کی سنتوں کو ہلکا اور مختصر پڑھنے کا بیان