Sahih Muslim — Hadith 3968
حَدَّثَنَا يَحْيَی بْنُ يَحْيَی قَالَ قَرَأْتُ عَلَی مَالِکٍ عَنْ ابْنِ شِهَابٍ عَنْ حُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ عَامَ حَجَّ وَهُوَ عَلَی الْمِنْبَرِ وَتَنَاوَلَ قُصَّةً مِنْ شَعَرٍ کَانَتْ فِي يَدِ حَرَسِيٍّ يَقُولُ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ أَيْنَ عُلَمَاؤُکُمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَی عَنْ مِثْلِ هَذِهِ وَيَقُولُ إِنَّمَا هَلَکَتْ بَنُو إِسْرَائِيلَ حِينَ اتَّخَذَ هَذِهِ نِسَاؤُهُمْ
یحیی بن یحیی، مالک ابن شہاب، حمید بن عبدالرحمن بن عوف معاویہ بن ابی سفیان، حضرت حمید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عبدالرحمن رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن عوف سے روایت ہے کہ انہوں نے حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ بن ابی سفیاں سے سنا جس سال انہوں نے حج کیا اس حال میں کہ وہ منبر پر تشریف فرما تھے انہوں نے بالوں کا ایک چٹلا اپنے ہاتھ میں لیا جو کہ ان کے خادم کے پاس تھا اور فرمانے لگے اے مدینہ والو! تمہارے علماء کہاں ہیں میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس طرح کی چیزوں سے منع فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ بنی اسرائیل اس وقت تباہ برباد ہو گئے جس وقت کہ ان کی عورتوں نے اس طرح کی عیش وعشرت شروع کر دی۔
Abd al-Rahman b. 'Auf said that he heard Mu'awiya b Sufyan during the season of Hajj. (saying) as he sat upon the pulpit holding a bunch of hair in his hand which was (previously) in the hand of his sentinel: O people of Medina, where are your scholars? I heard Allah's Messenger (may peace be upon him) forbidding this and saying: That the people of Bani Isra'il were ruined at the time when their women wore shuch hair.