TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4590 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4590

Narrated by Ibn Abbas

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَی الْبَطْحَائِ فَصَعِدَ إِلَی الْجَبَلِ فَنَادَی يَا صَبَاحَاهْ فَاجْتَمَعَتْ إِلَيْهِ قُرَيْشٌ فَقَالَ أَرَأَيْتُمْ إِنْ حَدَّثْتُکُمْ أَنَّ الْعَدُوَّ مُصَبِّحُکُمْ أَوْ مُمَسِّيکُمْ أَکُنْتُمْ تُصَدِّقُونِي قَالُوا نَعَمْ قَالَ فَإِنِّي نَذِيرٌ لَکُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيدٍ فَقَالَ أَبُو لَهَبٍ أَلِهَذَا جَمَعْتَنَا تَبًّا لَکَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ إِلَی آخِرِهَا

محمد بن سلام، ابومعاویہ، اعمش، عمرو بن مرہ، سعید بن جبیر، حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بطحاء کی طرف تشریف لے گئے اور پہاڑ پر چڑھ کر آواز دی یاصباحاہ! قریش آپ کے پاس جمع ہو گئے تو آپ نے فرمایا کہ بتاؤ اگر میں تم سے بیان کروں کہ دشمن صبح یا شام کے وقت تم پر حملہ کرنے والا ہے تو کیا تم مجھے سچا سمجھو گے؟ لوگوں نے کہا ہاں! تو آپ نے فرمایا کہ میں تمہارے لئے سخت عذاب سے ڈرانے والا ہوں ابولھب نے کہا کیا ہم کو اسی لئے جمع کیا تھا تو ہلاک ہوجائے تو اللہ تعالیٰ نے سورت تبت یدا ابی لھب وتب آخر تک نازل کی۔ (آیت) عنقریب وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگا۔

Narrated Ibn Abbas: The Prophet went out towards Al-Batha' and ascended the mountain and shouted, "O Sabahah!" So the Quraish people gathered around him. He said, "Do you see? If I tell you that an enemy is going to attack you in the morning or in the evening, will you believe me?" They replied, "Yes." He said, "Then I am a plain warner to you of a coming severe punishment." Abu Lahab said, "Is it for this reason that you have gathered us? May you perish ! " Then Allah revealed: 'Perish the hands of Abu Lahab!'

Permalink

See the full chapter: تفسیر سورت تبت یدا ابی لہب وتب! تباب بمعنے خسران اور تتیب بمعنے تدمیر (ہلاک کر دینا) ہے۔