TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4505 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4505

Narrated by Ibn Umar

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ نَافِعٍ عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَرَّقَ نَخْلَ بَنِي النَّضِيرِ وَقَطَعَ وَهِيَ الْبُوَيْرَةُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی مَا قَطَعْتُمْ مِنْ لِينَةٍ أَوْ تَرَکْتُمُوهَا قَائِمَةً عَلَی أُصُولِهَا فَبِإِذْنِ اللَّهِ وَلِيُخْزِيَ الْفَاسِقِينَ

قتیبہ، لیث، نافع، حضرت ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنی نضیر کے درختوں کو جلا دیا اور کاٹ ڈالا اس کو بویرہ کہتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت (مَا قَطَعْتُمْ مِّنْ لِّيْنَةٍ) 59۔ الحشر : 5) تم نے جو درخت کاٹ ڈالے یا اس کو اس کی جڑوں پر کھڑا چھوڑ دیا تو اللہ کے حکم سے تھا اور اس لئے کہ فاسقوں کو رسوا کرے۔ (آیت) (جو اللہ نے اپنے رسول کو بغیر جنگ عطا کیا) ۔

Narrated Ibn Umar: 'Allah's Apostle burnt and cut down the palm trees of Bani An-Nadir which were at Al-Buwair (a place near Medina). There upon Allah revealed: 'What you (O Muslims) cut down of the palm trees (of the enemy) or you left them standing on their stems, it was by the leave of Allah, so that He might cover with shame the rebellious.' (59.5)

Permalink

See the full chapter: تفسیر سورت حشر! جلاء کے معنی ایک ملک سے دوسرے ملک میں نکال دینا۔