Sahih Bukhari — Hadith 4448
Narrated by Abdullah
حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا وَکِيعٌ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ أَبِي الضُّحَی عَنْ مَسْرُوقٍ قَالَ دَخَلْتُ عَلَی عَبْدِ اللَّهِ فَقَالَ إِنَّ مِنْ الْعِلْمِ أَنْ تَقُولَ لِمَا لَا تَعْلَمُ اللَّهُ أَعْلَمُ إِنَّ اللَّهَ قَالَ لِنَبِيِّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُلْ مَا أَسْأَلُکُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ وَمَا أَنَا مِنْ الْمُتَکَلِّفِينَ إِنَّ قُرَيْشًا لَمَّا غَلَبُوا النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاسْتَعْصَوْا عَلَيْهِ قَالَ اللَّهُمَّ أَعِنِّي عَلَيْهِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ يُوسُفَ فَأَخَذَتْهُمْ سَنَةٌ أَکَلُوا فِيهَا الْعِظَامَ وَالْمَيْتَةَ مِنْ الْجَهْدِ حَتَّی جَعَلَ أَحَدُهُمْ يَرَی مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ السَّمَائِ کَهَيْئَةِ الدُّخَانِ مِنْ الْجُوعِ قَالُوا رَبَّنَا اکْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ فَقِيلَ لَهُ إِنْ کَشَفْنَا عَنْهُمْ عَادُوا فَدَعَا رَبَّهُ فَکَشَفَ عَنْهُمْ فَعَادُوا فَانْتَقَمَ اللَّهُ مِنْهُمْ يَوْمَ بَدْرٍ فَذَلِکَ قَوْلُهُ تَعَالَی فَارْتَقِبْ يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ إِلَی قَوْلِهِ جَلَّ ذِکْرُهُ إِنَّا مُنْتَقِمُونَ
یحیی ، وکیع، اعمش، ابوالضحیٰ، مسروق سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں عبداللہ کے پاس گیا تو انہوں نے کہا کہ علم کی بات یہ ہے کہ جس چیز کے متعلق تجھے علم نہ ہو تو تو کہے کہ اللہ زیادہ جانتا ہے اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے فرمایا کہ آپ کہہ دیجئے میں تم سے کسی اجر کا سوال نہیں کرتا اور نہ خود ساختہ باتیں کرتا ہوں قریش نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہا نہ مانا اور سرکشی کی تو آپ نے فرمایا کہ یا اللہ یوسف علیہ السلام کی قحط سالی کے ذریعہ ان کے خلاف ہماری مدد کر چنانچہ وہ لوگ قحط میں گرفتار ہو گئے اور بھوک کے سبب سے ہڈیاں اور مردار کھانے لگے یہاں تک کہ بھوک کے سبب سے آدمی کو اس کے اور آسمان کے درمیان دھوئیں کی طرح نظر آتا ان لوگوں نے کہا ہمارے پروردگار! ہم سے عذاب کو دور کردے بے شک ہم ایمان لانے والے ہیں اس کے جواب میں کہا گیا کہ اگر ہم ان سے عذاب دور کردیں تو وہ لوگ پھر ویسے ہی ہو جائیں گے آپ نے اپنے پروردگار سے دعا فرمائی تو ان سے عذاب دور کردیا گیا پھر وہ لوگ اپنی پہلی حالت پر لوٹ آئے تو اللہ نے ان سے جنگ بدر میں انتقام لے لیا اللہ کے قول (يَوْمَ تَأْتِي السَّمَائُ بِدُخَانٍ مُبِينٍ) سے یہی مراد ہے۔ (آیت) ان کے لئے نصیحت کہاں مفید ہے حالانکہ ان کے پاس رسول کھول کر بیان کرنے والا آ چکا ذکر اور ذکری کے ایک ہی معنی ہیں۔
Narrated Abdullah: It is a sign of having knowledge that, when you do not know something, you say: 'Allah knows better.' Allah said to his Prophet: 'Say: No wage do I ask of you for this (Qur'an), nor am I one of the pretenders (a person who pretends things which do not exist)' (38.86) When the Quraish troubled and stood against the Prophet he said, "O Allah! Help me against them by afflicting them with seven years of famine like the seven years of Joseph." So they were stricken with a year of famine during which they ate bones and dead animals because of too much suffering, and one of them would see something like smoke between him and the sky because of hunger. Then they said: Our Lord! Remove the torment from us, really we are believers. (44.12) And then it was said to the Prophet (by Allah), "If we remove it from them. they will revert to their ways (of heathenism)." So the Prophet invoked his Lord, who removed the punishment from them, but later they reverted (to heathenism), whereupon Allah punished them on the day of the Battle of Badr, and that is what Allah's Statement indicates: 'Then watch for the day that the sky will bring forth a kind of smoke plainly visible...we will indeed (then) exact retribution.' (44.10).