Sahih Bukhari — Hadith 4417
Narrated by Anas bin Malik
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الرَّقَاشِيُّ حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ قَالَ سَمِعْتُ أَبِي يَقُولُ حَدَّثَنَا أَبُو مِجْلَزٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا تَزَوَّجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ زَيْنَبَ بِنْتَ جَحْشٍ دَعَا الْقَوْمَ فَطَعِمُوا ثُمَّ جَلَسُوا يَتَحَدَّثُونَ وَإِذَا هُوَ کَأَنَّهُ يَتَهَيَّأُ لِلْقِيَامِ فَلَمْ يَقُومُوا فَلَمَّا رَأَی ذَلِکَ قَامَ فَلَمَّا قَامَ قَامَ مَنْ قَامَ وَقَعَدَ ثَلَاثَةُ نَفَرٍ فَجَائَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَدْخُلَ فَإِذَا الْقَوْمُ جُلُوسٌ ثُمَّ إِنَّهُمْ قَامُوا فَانْطَلَقْتُ فَجِئْتُ فَأَخْبَرْتُ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُمْ قَدْ انْطَلَقُوا فَجَائَ حَتَّی دَخَلَ فَذَهَبْتُ أَدْخُلُ فَأَلْقَی الْحِجَابَ بَيْنِي وَبَيْنَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَدْخُلُوا بُيُوتَ النَّبِيِّ الْآيَةَ
محمد بن عبد اللہ، قاشی، معتمر بن سلیمان، ان کے والد، ابومجلز، حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے زینب بنت جحش کے ساتھ شادی کرکے ولیمہ کی دعوت کی، لوگوں نے کھانا کھایا پھر بیٹھے رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اندر جانے کی فکر کر رہے تھے مگر یہ لوگ اٹھنے کا نام نہیں لیتے تھے جب آپ اٹھے تو آپ کے ہمراہ بہت سے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے مگر تین آدمی پھر بھی بیٹھے باتیں کرتے رہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم باہر جا کر جب دوبارہ اندر آئے تو دیکھا وہ لوگ ابھی تک بیٹھے ہی ہوئے ہیں۔ پھر کچھ دیر کے بعد وہ لوگ بھی اٹھے میں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو خبر دی کہ وہ سب چلے گئے اس وقت آپ اندر تشریف لائے میں نے بھی جانا چاہا مگر آپ نے پردہ ڈال دیا اس کے بعد اللہ نے آیت حجاب نازل فرمائی کہ ( يٰ اَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا لَا تَدْخُلُوْا بُيُوْتَ النَّبِيِّ اِلَّا اَنْ يُّؤْذَنَ لَكُمْ الخ۔) 33۔ الاحزاب : 53)
Narrated Anas bin Malik: When Allah's Apostle married Zainab bint Jahsh, he invited the people to a meal. They took the meal and remained sitting and talking. Then the Prophet (showed them) as if he is ready to get up, yet they did not get up. When he noticed that (there was no response to his movement), he got up, and the others too, got up except three persons who kept on sitting. The Prophet came back in order to enter his house, but he went away again. Then they left, whereupon I set out and went to the Prophet to tell him that they had departed, so he came and entered his house. I wanted to enter along with him, but he put a screen between me and him. Then Allah revealed: 'O you who believe! Do not enter the houses of the Prophet...' (33.53)