TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4351 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4351

Narrated by Abdullah bin Masud

حَدَّثَنَا الْحُمَيْدِيُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَکَّةَ وَحَوْلَ الْبَيْتِ سِتُّونَ وَثَلَاثُ مِائَةِ نُصُبٍ فَجَعَلَ يَطْعُنُهَا بِعُودٍ فِي يَدِهِ وَيَقُولُ جَائَ الْحَقُّ وَزَهَقَ الْبَاطِلُ إِنَّ الْبَاطِلَ کَانَ زَهُوقًا جَائَ الْحَقُّ وَمَا يُبْدِئُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيدُ

حمیدی، سفیان، ابن ابی نجیح، مجاہد، ابومعمر، حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ فتح مکہ کے وقت جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں آئے تو کعبہ کے پاس تین سو ساٹھ بت رکھے ہوئے تھے آپ کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی آپ اس لکڑی سے ہر بت کو ٹھوکا دے کر مذکورہ بالا آیت کی تلاوت فرما رہے تھے اور یہ آیت بھی پڑھ رہے تھے کہ ( جَا ءَ الْحَ قُّ وَمَا يُبْدِي ُ الْبَاطِلُ وَمَا يُعِيْدُ ) 34۔ السبأ : 49) یعنی حق آگیا باطل مٹ گیا اور اب باطل لوٹ کر نہیں آئے گا۔

Narrated Abdullah bin Masud: Allah's Apostle entered Mecca (in the year of the Conquest) and there were three-hundred and sixty idols around the Ka'ba. He then started hitting them with a stick in his hand and say: 'Truth (i.e. Islam) has come and falsehood (disbelief) vanished. Truly falsehood (disbelief) is ever bound to vanish.' (17.81) 'Truth has come and falsehood (Iblis) can not create anything.' (34.49)

Permalink

See the full chapter: اللہ تعالیٰ کا قول کہ آپ فرما دیجئے کہ حق آیا اور باطل گیا بیشک باطل تو جانے ہی کی چیز ہے زہق کے معنی ہیں ہلاک ہوا نابود ہوا۔