TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4301 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4301

Narrated by Shaqiq

حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ قُلْتُ لِأَبِي أُسَامَةَ أَحَدَّثَکُمْ زَائِدَةُ عَنْ سُلَيْمَانَ عَنْ شَقِيقٍ عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ کَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْمُرُ بِالصَّدَقَةِ فَيَحْتَالُ أَحَدُنَا حَتَّی يَجِيئَ بِالْمُدِّ وَإِنَّ لِأَحَدِهِمْ الْيَوْمَ مِائَةَ أَلْفٍ کَأَنَّهُ يُعَرِّضُ بِنَفْسِهِ

اسحاق بن ابراہیم، ابواسامہ، زائدہ، سلیمان، شقیق، حضرت ابن مسعود انصاری سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو خیرات کا حکم دیتے تو ہم نہایت کوشش کرکے گہیوں یا کھجور کا ایک مد لا سکتے تھے۔ یعنی بہت تھوڑا خیرات کر سکتے تھے مگر اب ہم ایک لاکھ دینے کی طاقت رکھتے ہیں پھر حضرت ابومسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی طرف اشارہ کیا۔

Narrated Shaqiq: Abu Mas'ud Al-Ansari said, "Allah's Apostle, used to order us to give alms. So one of us would exert himself to earn one Mud (special measure of wheat or dates, etc.,) to give in charity; while today one of us may have one hundred thousand." Shaqiq said: As if Abu Masud referred to himself.

Permalink

See the full chapter: اللہ تعالیٰ کا قول کہ جو لوگ خیرات کرنے والے مومنین کو طعنہ دیتے ہیں یلمزون کے معنی عیب لگاتے ہیں جھدھم اور جھدھم کے معنی ہیں کہ اپنی کوشش اور طاقت کے موافق ۔