TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 4136 · Explanation of Tafsir (Quranic Exegesis)

Sahih BukhariHadith 4136

Narrated by 'Asim bin Sulaiman

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ عَاصِمِ بْنِ سُلَيْمَانَ قَالَ سَأَلْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ فَقَالَ کُنَّا نَرَی أَنَّهُمَا مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ فَلَمَّا کَانَ الْإِسْلَامُ أَمْسَکْنَا عَنْهُمَا فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَی إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوْ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا

محمد بن یوسف، سفیان، عاصم بن سلیمان سے روایت کرتے ہیں انہوں نے بیان کیا کہ میں نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے پوچھا کہ صفا اور مروہ کی سعی کیا ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمانہ ابتداء اسلام میں اس طریقہ کو جاہلیت کی ایک رسم سمجھتے تھے اور اس وجہ سے ہم نے اسے چھوڑ رکھا تھا آخر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی کہ بے شک صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانیاں ہیں آخر آیت تک۔

Narrated 'Asim bin Sulaiman: I asked Anas bin Malik about Safa and Marwa. Anas replied, "We used to consider (i.e. going around) them a custom of the Pre-islamic period of Ignorance, so when Islam came, we gave up going around them. Then Allah revealed" "Verily, Safa and Marwa (i.e. two mountains at Mecca) are among the Symbols of Allah. So it is not harmful of those who perform the Hajj of the House (of Allah) or perform the Umra to ambulate (Tawaf) between them." (2.158)

Permalink

See the full chapter: ارشاد باری تعالیٰ کہ صفا و مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے نشانی ہیں پھر جو کوئی کعبہ کا طواف کرے یا عمرہ کا ارادہ کرے تو اگر کوئی ان دونوں کے درمیان سعی کرے (دوڑے) تو کوئی حرج نہیں ہے شعائر شعیرہ کی جمع ہے اس کے معنی ہیں نشانیاں علامتیں ابن عباس کہتے ہیں صفوان کا جو لفظ ہے اس کا مطلب ہے پتھر بعض کا قول ہے صفوان کے معنی چکنے پتھر کے ہیں اور اس کا واحد صفوانہ ہے جس طرح صفایہ بھی جمع ہے اور اس کا مفرد صفا ہے۔