Sahih Bukhari — Hadith 3744
Narrated by Zaid bin Thabit
حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ يَزِيدَ يُحَدِّثُ عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَی أُحُدٍ رَجَعَ نَاسٌ مِمَّنْ خَرَجَ مَعَهُ وَکَانَ أَصْحَابُ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِرْقَتَيْنِ فِرْقَةً تَقُولُ نُقَاتِلُهُمْ وَفِرْقَةً تَقُولُ لَا نُقَاتِلُهُمْ فَنَزَلَتْ فَمَا لَکُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْکَسَهُمْ بِمَا کَسَبُوا وَقَالَ إِنَّهَا طَيْبَةُ تَنْفِي الذُّنُوبَ کَمَا تَنْفِي النَّارُ خَبَثَ الْفِضَّةِ
ابو الولید، شعبہ، عدی بن ثابت، عبداللہ بن یزید، حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں وہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم احد کی لڑائی کے لئے نکلے تو کچھ لوگ جو آپ کے ساتھ نکلے تھے واپس لوٹ گئے صحابہ کرام میں ان کے متعلق دو گروہ ہو گئے ایک گروہ کا خیال تھا کہ ان کو قتل کرنا چاہئے دوسرے گروہ نے کہا نہیں ایسا نہیں کرنا چاہئے اس وقت اللہ تعالیٰ نے سورت النساء کی یه آیت نازل فرمائی (ترجمه) مسلمانو! تم کو کیا ہوگیا ہے که تم منافقوں کے بارے میں دو گروه ہوگئے ہو حالانکه الله تعالیٰ نے ان کے اعمال کی وجه سے ان کو کفر کی طرف لوٹا دیا ہے رسول الله صلی الله علیه وسلم نے فرمایا که مدینه طیبه ہے وه گناه گاروں کو اس طرح نکال کرپھینک دیتا ہے جیسے بھٹی چاندی کا میل نکال دیتی ہے ۔
Narrated Zaid bin Thabit: When the Prophet set out for (the battle of) Uhud, some of those who had gone out with him, returned. The companions of the Prophet were divided into two groups. One group said, "We will fight them (i.e. the enemy)," and the other group said, "We will not fight them." So there came the Divine Revelation:-- '(O Muslims!) Then what is the matter within you that you are divided. Into two parties about the hypocrites? Allah has cast them back (to disbelief) Because of what they have earned.' (4.88) On that, the Prophet said, "That is Taiba (i.e. the city of Medina) which clears one from one's sins as the fire expels the impurities of silver."