Sahih Bukhari — Hadith 3510
Narrated by Yahya bin Said
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ يَحْيَی بْنِ سَعِيدٍ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ حِينَ خَرَجَ مَعَهُ إِلَی الْوَلِيدِ قَالَ دَعَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْأَنْصَارَ إِلَی أَنْ يُقْطِعَ لَهُمْ الْبَحْرَيْنِ فَقَالُوا لَا إِلَّا أَنْ تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا مِنْ الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَهَا قَالَ إِمَّا لَا فَاصْبِرُوا حَتَّی تَلْقَوْنِي فَإِنَّهُ سَيُصِيبُکُمْ أَثَرَةٌ البَعْدِي
عبداللہ بن محمد سفیان یحیی بن سعید نے حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے جب وہ ان کے ساتھ ولید کے پاس جا رہے تھے تو یہ کہتے ہوئے سنا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار کو بحرین کی جاگیریں ان کے نام لکھنے کے لئے بلایا تو انصار نے عرض کیا کہ ہمیں یہ اس طرح منظور ہے کہ ہمارے مہاجر بھائیوں کو بھی ایسی ہی جاگیریں دیں آپ نے فرمایا اگر تمہیں منظور نہیں ہے تو (اب) تم صبر کرنا حتیٰ کہ مجھ سے مل جاؤ کیونکہ میرے بعد تمہارے مقابلہ میں دوسروں کو ترجیح ہو گی۔
Narrated Yahya bin Said: That he heard Anas bin Malik when he went with him to Al-Walid, saying, "Once the Prophet called the Ansar in order to give them the territory of Bahrain they said, 'No, unless you give to our emigrant brethren a similar share.' On that he said 'If you do not agree to it, then be patient till you meet me, for after me others will be given preference to you."'