Sahih Bukhari — Hadith 3028
Narrated by 'Aisha
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَی أَخْبَرَنَا عِيسَی عَنْ هِشَامٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَالَ اللَّيْثُ کَتَبَ إِلَيَّ هِشَامٌ أَنَّهُ سَمِعَهُ وَوَعَاهُ عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ سُحِرَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّی کَانَ يُخَيَّلُ إِلَيْهِ أَنَّهُ يَفْعَلُ الشَّيْئَ وَمَا يَفْعَلُهُ حَتَّی کَانَ ذَاتَ يَوْمٍ دَعَا وَدَعَا ثُمَّ قَالَ أَشَعَرْتِ أَنَّ اللَّهَ أَفْتَانِي فِيمَا فِيهِ شِفَائِي أَتَانِي رَجُلَانِ فَقَعَدَ أَحَدُهُمَا عِنْدَ رَأْسِي وَالْآخَرُ عِنْدَ رِجْلَيَّ فَقَالَ أَحَدُهُمَا لِلْآخَرِ مَا وَجَعُ الرَّجُلِ قَالَ مَطْبُوبٌ قَالَ وَمَنْ طَبَّهُ قَالَ لَبِيدُ بْنُ الْأَعْصَمِ قَالَ فِيمَا ذَا قَالَ فِي مُشُطٍ وَمُشَاقَةٍ وَجُفِّ طَلْعَةٍ ذَکَرٍ قَالَ فَأَيْنَ هُوَ قَالَ فِي بِئْرِ ذَرْوَانَ فَخَرَجَ إِلَيْهَا النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ لِعَائِشَةَ حِينَ رَجَعَ نَخْلُهَا کَأَنَّهُ رُئُوسُ الشَّيَاطِينِ فَقُلْتُ اسْتَخْرَجْتَهُ فَقَالَ لَا أَمَّا أَنَا فَقَدْ شَفَانِي اللَّهُ وَخَشِيتُ أَنْ يُثِيرَ ذَلِکَ عَلَی النَّاسِ شَرًّا ثُمَّ دُفِنَتْ الْبِئْرُ
ابراہیم بن موسیٰ عیسیٰ ہشام ان کے والد حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا گیا لیث نے کہا کہ مجھے ہشام نے ایک خط لکھا جس میں لکھا تھا کہ میں نے و اپنے والد انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے سنا اور میں نے اسئے خوب یاد رکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جادو کیا گیا جس کا یہ اثر ہوا کہ آپ کو نہ کئے کام کے متعلق یہ خیال ہوتا کہ کرلیا ہے حتیٰ کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن (اللہ سے اپنی شفا کی) خوب دعا کی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (مجھ سے) فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے وہ چیز مجھے بتا دی جس سے میری شفا ہو میرے پاس دو آدمی آئے ایک میرے سرہانے بیٹھا اور دوسرا پائنتی کی طرف تو ایک نے دوسرے سے کہا کہ اس شخص کو کیا بیماری ہے دوسرے نے کہا ان پر جادو ہوا ہے پہلے نے کہا یہ جادو کس نے کیا ہے دوسرے نے جواب دیا لبید بن عاصم نے پہلے نے کہا کہ کس چیز میں دوسرے نے جواب دیا کنگھی اور روئی کے گالے میں اور کھجور کی کلی کے اوپر والے چھلکے میں پہلے نے کہا یہ چیزیں کہاں ہی دوسر نے جواب دیا کہ ذروان کے کنویں میں تو آپ وہاں تشریف لے گئے پھر واپس آئے تو عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اس کنویں کے قریب کھجور کے درخت ایسے معلوم ہوتے تھے جیسے (بھوتوں کے سر) یا شیطان کی کھوپڑیاں میں نے عرض کیا وہ جادو کی ہوئی چیزیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نکلوالیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں لیکن اللہ نے مجھے شفا عطا فرمائی اور یہ اندیشہ ہوا کہ (ان کے نکلوانے سے) لوگوں میں فساد نہ پھیل جائے پھر وہ کنواں بند کردیا گیا۔
Narrated 'Aisha: Magic was worked on the Prophet so that he began to fancy that he was doing a thing which he was not actually doing. One day he invoked (Allah) for a long period and then said, "I feel that Allah has inspired me as how to cure myself. Two persons came to me (in my dream) and sat, one by my head and the other by my feet. One of them asked the other, "What is the ailment of this man?" The other replied, 'He has been bewitched" The first asked, 'Who has bewitched him?' The other replied, 'Lubaid bin Al-A'sam.' The first one asked, 'What material has he used?' The other replied, 'A comb, the hair gathered on it, and the outer skin of the pollen of the male date-palm.' The first asked, 'Where is that?' The other replied, 'It is in the well of Dharwan.' " So, the Prophet went out towards the well and then returned and said to me on his return, "Its date-palms (the date-palms near the well) are like the heads of the devils." I asked, "Did you take out those things with which the magic was worked?" He said, "No, for I have been cured by Allah and I am afraid that this action may spread evil amongst the people." Later on the well was filled up with earth.