TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 2883 · Jihad and the Biography of Prophet Muhammad (PBUH)

Sahih BukhariHadith 2883

Narrated by Jabir bin 'Abdullah Al-Ansari

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يُوسُفَ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْأَنْصَارِيِّ قَالَ وُلِدَ لِرَجُلٍ مِنَّا غُلَامٌ فَسَمَّاهُ الْقَاسِمَ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ لَا نَکْنِيکَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا نُنْعِمُکَ عَيْنًا فَأَتَی النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وُلِدَ لِي غُلَامٌ فَسَمَّيْتُهُ الْقَاسِمَ فَقَالَتْ الْأَنْصَارُ لَا نَکْنِيکَ أَبَا الْقَاسِمِ وَلَا نُنْعِمُکَ عَيْنًا فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَتْ الْأَنْصَارُ سَمُّوا بِاسْمِي وَلَا تَکَنَّوْا بِکُنْيَتِي فَإِنَّمَا أَنَا قَاسِمٌ

محمد سفیان اعمش ابوسالم ابوجعد جابر بن عبداللہ انصاری سے روایت کرتے ہیں کہ ہم انصاریوں میں سے کسی کے ہاں فرزند تولد ہوا اور اس نے اس بچہ کا نام قاسم رکھا جس پر انصار نے اس انصاری سے کہا کہ تم کو ہم ابوالقاسم نہیں کہیں گے اور اس مبارک کنیت سے تیری آنکھوں کوٹھنڈک کیسے دے سکتے ہیں اس انصاری نے رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جا کر عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! میرے ہاں لڑکا پیدا ہوا ہے اور میں نے اس کا نام قاسم رکھا ہے مگر تمام دوسرے انصار کہہ رہے ہیں کہ ہم لوگ تجھ کو ابوالقاسم نہیں کہیں گے اور تیری آنکھوں کو اس مبارک کنیت کے رکھنے سے ٹھنڈا نہیں کر سکتے یہ سنکر سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا انصار نے اچھا کیا تم میرا نام تو رکھ سکتے ہو مگر میرے نام کے ساتھ میری کنیت نہ رکھو کیونکہ قاسم تو صرف میں ہی ہوں۔

Narrated Jabir bin 'Abdullah Al-Ansari: A man amongst us begot a boy whom he named Al-Qasim. On that the Ansar said, (to the man), "We will never call you Abu-al-Qasim and will never please you with this blessed title." So, he went to the Prophet and said, "O Allah's Apostle! I have begotten a boy whom I named Al-Qasim and the Ansar said, 'We will never call you Abu-al-Qasim, nor will we please you with this title.' " The Prophet said, "The Ansar have done well. Name by my name, but do not name by my Kunya, for I am Qasim."

Permalink

See the full chapter: رسول اللہ اور مسکینوں کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے ادائے خمس کی دلیلوں اور سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا حضرت فاطمہ کی چکی پیسنے کی شکایت پر آپ کو لونڈی نہ دینے اور ان کی ضروریات کو اللہ تعالیٰ کے حوالہ کرکے اہل صفہ اور بیوہ عورتوں کے لیے ایثار کرنے کے حکم کی وضاحت کا بیان