Sahih Bukhari — Hadith 2828
قَالَ ابْنُ عُمَرَ انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُبَيُّ بْنُ کَعْبٍ يَأْتِيَانِ النَّخْلَ الَّذِي فِيهِ ابْنُ صَيَّادٍ حَتَّی إِذَا دَخَلَ النَّخْلَ طَفِقَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ وَهُوَ يَخْتِلُ ابْنَ صَيَّادٍ أَنْ يَسْمَعَ مِنْ ابْنِ صَيَّادٍ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يَرَاهُ وَابْنُ صَيَّادٍ مُضْطَجِعٌ عَلَی فِرَاشِهِ فِي قَطِيفَةٍ لَهُ فِيهَا رَمْزَةٌ فَرَأَتْ أُمُّ ابْنِ صَيَّادٍ النَّبِيَّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَتَّقِي بِجُذُوعِ النَّخْلِ فَقَالَتْ لِابْنِ صَيَّادٍ أَيْ صَافِ وَهُوَ اسْمُهُ فَثَارَ ابْنُ صَيَّادٍ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَوْ تَرَکَتْهُ بَيَّنَ
ابن عمر کا بیان ہے کہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم اور ابی بن کعب اس باغ میں جس میں ابن صیاد رہا کرتا تھا ایک دن جا رہے تھے اور جب باغ میں پہنچ گئے تو درختوں کے تنوں میں چھپنے لگے تاکہ وہ آپ کو دیکھ نہ سکے اور آپ اس کی کچھ باتیں سن سکیں آپ نے دیکھا کہ وہ اپنے بچھونے پر اپنی چادر میں لپٹا پڑا تھا جس میں ایک گنگناہٹ تھی آپ کھجوروں کے تنوں میں چھپے ہوئے تھے کہ ابن صیاد کی ماں نے آپ کو دیکھ لیا اور اپنے بیٹے ابن صیاد سے اس کا نام لے کر کہا ارے او بیٹا صاف چنانچہ ابن صیاد اٹھ بیٹھا تو رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اگر یہ عورت اپنے بیٹے صاف کو اس کی اصلی حالت پر رہنے دیتی تو حقیقت حال صاف ہو جاتی
-