TrueHadith

Sahih Bukhari, Hadith 2561 · Discussion on Wills

Sahih BukhariHadith 2561

Narrated by Anas

حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ کَثِيرٍ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ لَيْسَ لَهُ خَادِمٌ فَأَخَذَ أَبُو طَلْحَةَ بِيَدِي فَانْطَلَقَ بِي إِلَی رَسُولِ اللَّهِ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ أَنَسًا غُلَامٌ کَيِّسٌ فَلْيَخْدُمْکَ قَالَ فَخَدَمْتُهُ فِي السَّفَرِ وَالْحَضَرِ مَا قَالَ لِي لِشَيْئٍ صَنَعْتُهُ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا هَکَذَا وَلَا لِشَيْئٍ لَمْ أَصْنَعْهُ لِمَ لَمْ تَصْنَعْ هَذَا هَکَذَا

یعقوب بن ابراہیم بن کثیر، ابن علیہ، عبدالعزیز انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ جب مدینہ میں تشریف لائے تو آپ کے پاس کوئی خادم نہ تھا، پس ابوطلحہ نے جو میری والدہ کے دوسرے شوہر تھے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جا کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ انس ایک سمجھدار لڑکا ہے یہ آپ کی خدمت کرے گا چنانچہ میں نے سفر اور حضر میں آپکی خدمت کی اگر میں نے کوئی کام کردیا تو آپ نے مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے اس کو اس طرح کیوں کیا اور اگر کوئی کام میں نے نہیں کیا تو آپ نے مجھ سے یہ نہیں فرمایا کہ تم نے یہ کام کیوں نہیں کیا۔

Narrated Anas: When Allah's Apostle came to Medina; he did not have any servant. Abu Talha (Anas' step-father) took me to Allah's Apostle and said, "O Allah's Apostle! Anas is a wise boy, so let him serve you." So, I served him at home and on journeys. If I did anything, he never asked me why I did it, and if I refrained from doing anything, he never asked me why I refrained from doing it.

Permalink

See the full chapter: یتیم سے سفر و حضر میں کام لینے کا بیان اگر یہ اس کیلئے بہتر ہو مال اور سوتیلے باپ کا یتیم کی نگہداشت کرنا۔