Sahih Bukhari — Hadith 2539
Narrated by Sad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحِيمِ حَدَّثَنَا زَکَرِيَّائُ بْنُ عَدِيٍّ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ عَنْ هَاشِمِ بْنِ هَاشِمٍ عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ مَرِضْتُ فَعَادَنِي النَّبِيُّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ ادْعُ اللَّهَ أَنْ لَا يَرُدَّنِي عَلَی عَقِبِي قَالَ لَعَلَّ اللَّهَ يَرْفَعُکَ وَيَنْفَعُ بِکَ نَاسًا قُلْتُ أُرِيدُ أَنْ أُوصِيَ وَإِنَّمَا لِي ابْنَةٌ قُلْتُ أُوصِي بِالنِّصْفِ قَالَ النِّصْفُ کَثِيرٌ قُلْتُ فَالثُّلُثِ قَالَ الثُّلُثُ وَالثُّلُثُ کَثِيرٌ أَوْ کَبِيرٌ قَالَ فَأَوْصَی النَّاسُ بِالثُّلُثِ وَجَازَ ذَلِکَ لَهُمْ
محمد بن عبدالرحيم، زکریا، عدی، مروان، ہاشم بن ہاشم، عامر بن سعد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں کہا میں ایک مرتبہ بیمار ہوا تو آنحضرت میری عیادت کیلئے تشریف لائے، میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! آپ اللہ سے دعا فرمائیے، وہ مجھے ایڑیوں کے بل نہ لوٹا دے (یعنی مکہ میں جہاں سے میں ہجرت کر چکا ہوں، مجھے موت نہ دے) آپ نے فرمایا، گھبراؤ نہیں، تمہیں وہاں موت نہیں آئے گی، امید ہے کہ اللہ تمہیں بلند مرتبہ کردے گا تم سے کچھ لوگوں کو نفع پہنچے گا میں نے عرض کیا میں چاہتا ہوں کہ وصیت کروں۔ اور مری صرف ایک ہی بیٹی ہے، کیا میں نصف کی وصیت کروں۔ آپ نے فرمایا نصف بہت ہے، میں نے کہا تو تہائی مال کی، آپ نے فرمایا تہائی کا مضائقہ نہیں اور تہائی بھی بہت ہے، پس لوگوں نے تہائی کی وصیت کرنی شروع کی، اور یہ ان کیلئے جائز ہوگیا۔
Narrated Sad: I fell sick and the Prophet paid me a visit. I said to him, "O Allah's Apostle! I invoke Allah that He may not let me expire in the land whence I migrated (i.e. Mecca)." He said, "May Allah give you health and let the people benefit by you." I said, "I want to will my property, and I have only one daughter and I want to will half of my property (to be given in charity)." He said," Half is too much." I said, "Then I will one third." He said, "One-third, yet even one-third is too much." (The narrator added, "So the people started to will one third of their property and that was Permitted for them.")