Sahih Bukhari — Hadith 1273
Narrated by Ibn Abbas
حَدَّثَنَا يَحْيَی حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنْ النَّبِيِّ صَلَّی اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ مَرَّ بِقَبْرَيْنِ يُعَذَّبَانِ فَقَالَ إِنَّهُمَا لَيُعَذَّبَانِ وَمَا يُعَذَّبَانِ فِي کَبِيرٍ أَمَّا أَحَدُهُمَا فَکَانَ لَا يَسْتَتِرُ مِنْ الْبَوْلِ وَأَمَّا الْآخَرُ فَکَانَ يَمْشِي بِالنَّمِيمَةِ ثُمَّ أَخَذَ جَرِيدَةً رَطْبَةً فَشَقَّهَا بِنِصْفَيْنِ ثُمَّ غَرَزَ فِي کُلِّ قَبْرٍ وَاحِدَةً فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ لِمَ صَنَعْتَ هَذَا فَقَالَ لَعَلَّهُ أَنْ يُخَفَّفَ عَنْهُمَا مَا لَمْ يَيْبَسَا
یحیی، ابومعاویہ، اعمش، مجاہد، طاؤس ، ابن عباس نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ دو قبروں کے پاس سے گزرے ان دونوں پر عذاب ہو رہا تھا آپ نے فرمایا ان دونوں پر عذاب ہورہا ہے اور کسی بڑے امر میں ان پر عذاب نہیں ہو رہا ایک تو پیشاب سے نہیں بچتا تھا اور دوسرا چغلی کھاتا پھرتا تھا پھر ایک تر شاخ لی اور اس کے دو ٹکڑے کیے پھر ہر قبر پر ایک ایک ٹکڑا گاڑ دیا لوگوں نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آپ نے یہ کس مصلحت کی بناء پر کیا آپ نے فرمایا شاید ان کے عذاب میں تخفیف ہوجاے جب تک یہ خشک نہ ہوں۔
Narrated Ibn Abbas: The Prophet once passed by two graves, and those two persons (in the graves) were being tortured. He said, "They are being tortured not for a great thing (to avoid). One of them never saved himself from being soiled with his urine, while the other was going about with calumnies (to make enmity between friends). He then took a green leaf of a date-palm tree split it into two pieces and fixed one on each grave. The people said, "O Allah's Apostle! Why have you done so?" He replied, "I hope that their punishment may be lessened till they (the leaf) become dry." ________________________________________